خضدار میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی سینئر پوسٹ پرتعینات جونیئر افسر نے اپنا تبادلہ روکنے کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی

خضدار (این این آئی) ضلع خضدار میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے ایک جونیئر آفیسر جو سینئر عہدوں پر عرصہ 15 سال سے تعینات تھے، کا حال ہی میں تبادلہ کیا گیا ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق اس تبادلے کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کے لیئے انتہائی کوششیں جاری ہیں، جو علاقے کے عوامی نمائندوں اور بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ اس معاملے نے خضدار کے عوام میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جہاں لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ خضدار کے فیصلے کہاں اور کیوں کیے جاتے ہیں ں ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایکسیئن آفیسر نے تین مختلف عہدوں پر 15 سال سے براجمان ہے، جن میں بلڈنگ سیکشن مین ایکسیئن اور ایس ڈی او جب کہ اسی محکمہ کے دوسرے سیکشن میں ایس ڈی او کے عہدوں پر تعینات ہے جو کہ حکومت بلوچستان اور سیکریٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات کا ایک غیر معمولی فیصلہ ہے۔ اب انہیں خضدار میں 16ویں سال کے لیئے برقرار رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو عوام کی نظر میں ظلم و زیادتی کے مترادف ہے۔ مذکورہ محکمے کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بتایا کہ “جس افسر کا ایک قلم بھی سیدھا نہیں، اور انہیں نے جس بھی منصوبے میں ہاتھ ڈالا اسے تباہ و برباد کردی، تاہم اس آفیسر کو دیمک بناکر خضدار پر بٹھایا گیا ہے جو قابل مذمت اور اختیار داروں کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ ہے۔آخر اسے مسلسل خضدار میں کیوں رکھا جا رہا ہے؟ یہ علاقے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے خلاف ہے۔خضدار کے نمائندوں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوام کو غلام سمجھ کر فیصلے کرتے ہیں، اور علاقائی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ معاملہ بلوچستان کی انتظامیہ میں شفافیت اور احتساب کی کمی کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ تبادلے کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور اس جونیئر افسر کی طویل تعیناتی کی تحقیقات کی جائیں۔محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر نوٹیفکیشن منسوخ ہوا تو یہ خضدار کے عوام کے لیئے مزید مایوسی کا باعث بنے گا۔ علاقے کے سماجی کارکنوں نے اسے “انتظامی ناانصافی” قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں