پنجگور(این این آئی) بارڈر بچاو تحریک نے بارڈر کی بلاجواز بندش کو غریب عوام اور محنت کش طبقے کی معاشی قتل عام سے تعبیر کرتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر مکران اور رخشان ڈویژن سے متصل ڈیزل پوائنس نہیں کھولے گئے اور عوام کو روزگار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو بلوچستان کے تمام محنت کشوں سے ملکر اپنے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے پریس کانفرنس کے زریعے احتجاجی شیڈول کا اعلان کرینگے بارڈر بچاو تحریک کے ترجمان نے کہا کہ بارڈر کی بندش کے مسئلے پر سیاسی پارٹیز، انجمن تاجران، وکلا برادری، سیول سوسائٹی، صحافی برادری بارڈر سے منسلک تمام طبقات سے رابطے میں ہیں تاکہ روزگار دشمن فیصلوں کے خلاف ملکر منظم طریقے سے جہدوجہد کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ بارڈر سے صرف سرحدی اضلاع کے لوگ مستفید نہیں ہورہے بلکہ ڈیرہ مراد جمالی چمن پشین حب چوکی خضدار قلات کوئٹہ مستونگ کے غریب اور بے روزگار خاندان اپنے گھروں کے چولہے چلارہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیک وقت بلوچستان کے جملہ عوام کو بے روزگار کردیا ہے جس سے پورے صوبے میں محنت کش طبقہ کی معاشی بے چینیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور اس فیصلے سے لاکھوں لوگ نان نفقہ کے محتاج بن گئے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کا فیصلہ عوامی مفادات سے متصادم ہے بلوچستان میں پہلے ہی سے بے روزگاری بیماریاں ناخواندگی امن وامان کا مسلہ شدت کے ساتھ موجود ہے عوام کے لیے روزگار کا واحد زریعہ چھیننے کے بعد بھوک وافلاس کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس سے گھر گھر متاثر رہے گی ترجمان نے کہا کہ حکومتیں ہمیشہ عوام کے روزگار کا سوچتی ہیں بدقسمتی سے ہمارے ہاں عوام کو سہولت اور روزگار دینے کا سوچ سرے سے نہیں ہے ہر کوئی اپنی پاوں غریب محنت کش کے گردن پر رکھنے میں خوشی اور فخر محسوس کرتا ہے بارڈر کی بندش سے جو معاشی بدحالی آئیگا اس کا اندازہ شاہد اختیار داروں کو نہیں ہے یا وہ جان بوجھ کر عوام کو بے روزگار کرنے کی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہے تاکہ عوام تنگ آکر اجتماعی خودکشیاں کرے بارڈر بچاؤ تحریک نے کہا کہ بلوچستان میں روزگار کے لیے کوئی بھی کارخانہ نہیں ہے مکران رخشاں ڈویڑنوں کی حالت مذید ابتر ہے بارڈر بند ہونے سے ہر طرح کا کاروبار ختم ہوکر رہ جاتا ہے تعلیم صحت کے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں ان حالات میں عوام کے لئے جب متبادل زریعہ نہیں ہوگا تو وہ کیسے روزگار کرکے اپنے بچوں کو ایک وقت کی روٹی کھلا سکے گا انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ رواں ہفتے یعنی جمعرات تک کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے بصورت دیگر احتجاجی شیڈول کا اعلان کرکے روزگار دشمن پالیسیوں کے خلاف جہدوجہد شروع کردینگے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- خطۂ بلوچستان کی تقسیم امکانات، محرومیاں اور مشترکہ مستقبل
- ڈیرہ مراد جمالی میں نامعلوم افراد سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دستی بم پھینک کرفرار ہوگئے
- کوہلو کے علاقے میں واقع جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی
- جھالاوان کی سیاسی جماعتیں ضمنی انتخاب پر مشترکہ امیدوار لائیں تو مکمل حمایت کرینگے،نوابزادہ اسرار اللہ زہری
- ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ کا سابق سینیٹر ثریا امیرالدین کے انتقا ل پر افسوس کا اظہار
- بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ہونے کے باوجود جیالے مایوسی کا شکار ہیں،لالہ یوسف خلجی
- خواتین کی حفظان صحت یقینی بنانے کیلئے ہر سطح پر اقدامات ضروری ہیں،عظمیٰ کاردار
- ڈیرہ مراد جمالی میں پا ک بھارت میچ دیکھنے کیلئے بڑی اسکرین نصب
- فیڈرل لیویز فورس کے ریٹائرڈ ملازمین جائز مطالبات کے حل تک احتجاج جاری رکھیں گے،لال جان مری
- گرفتاریاں اور سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاج سے روکنے کی کوشش جمہوری اقدار کے منافی ہے،احتجاجی مظاہرے سے عبدالنعیم رند اوردیگر کا خطاب

