“اقتساب ” جو مین نے دیکھا

عظیم سندھی مفکر جی ایم سید
دنیا اور کائنات کے بارے میں مختلف علوم کے ذریعے تا حال بڑی معلومات حاصل ہوچکی ہیں۔ ان دریافتوں میں انسانی زندگی کے ارتقائی مراحل اور مزاہب کی تاریخ بھی شامل ہے۔ جن جدید علوم نے وہم کے پردے ہٹا کر حقیقت کو ان کے اصل روپ میں پیش کیا ہے۔ ان میں جیالوجی نے زمین کی ماہیت ،جغرافئیے نے سمندروں اور بیابانوں کا علم، انتھروپولوجی نے علم الانسان،ایتھنالوجی نے انسانی نسلوں کا علم، فلالوجی نے زبانوں کی اصلیت ، سوشیالوجی نے انسانی سماج کے تغیرات ، ارکیالوجی نے قدیم تہذیبوں کی دریافت، فوک لور نے قدیم روایات، فوک کسٹم نے پرانی رسم و رواجات ، میتھالوجی نے مزہبی قصے کہانیاں، فلاسفی نے عقلی دلائل ، تاریخ نے ماضی کے واقعات، ریاضی، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، باٹنی اور آجکل کے مصنوعی زہانت کے علوم نے مزہب کی حقیقت کو جاننے کیلئے صرف الہامی کتابوں ، تفسیروں اور روایات تک انحصار کو کمزور کردیا ہے۔دور حاضر میں مزاہب کا علم بھی ایک صورت میں سائنس ہوگیا ہے۔ بالا سطور میں درج علوم کے علما کی علمی کاوشوں کو نظر کرنا گویا آنکھوں پر پٹی باندھ کر گاڑی چلانا ہے۔ قیاس اور سائنسی تحقیق کے یہ ذرائع بتاتے ہیں کہ کس طرح مزاہب کی شروعات ہوئی تھیں۔ کس طرح وہ حالات کے تقاضوں ، معاشرتی تبدیلیوں اور معلومات سے متاثر ہوکر اپنے عقائد ، رسم و رواج ، طور طریقوں اور ضابطوں میں تبدیلی لاتے رہے۔ ان ہی ارتقائی تبدیلیوں کی تحقیق سے سائنسی علوم یہ ثابت کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ کہ خوف اور امید کی وجہ سے پیدا ہونے والے عقائد اور ضابطے مرحلہ وار آگے بڑھے ہیں۔ اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ فزکس،کیمسٹری اور بیالوجی کی طرح وہ مزاہب کو بھی سماجی اور زہنی ارتقاء کا ایک علم تصور کرتے ہیں۔ جو باوجود مختلف عقائد اور ضابطوں میں تقسیم ہونے کے بنیادی وحدت رکھتے ہیں۔ اور مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے دوسرے علوم کے قائم کردہ چند نظریات یا تفکرات کو تجربات اور افادیت کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد قبول کیا جاتا ہے یا رد کر دیس جاتا ہے۔اسی طرح مزہبی نظریات و عقائد میں بھی ترمیم و تنسیخ جاری رہتی ہے۔ کسی بھی عقیدے کا مسلکی نظریہ اور سماجی دستور حتمی، مستقل اور دائمی نہیں ہوتا۔ قانون ارتقاء کے مطابق ہر ایک چیز میں تبدیلی اور ترقی ہوتی رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میں متضاد اور متحارب نظریات یعنی وحدت مزاہب اور کثرت مزاہب کا ٹکراؤ کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے؟ مشاہدے میں آیا ہے کہ اس سلسلے میں دوطرح کی کوششیں دنیا میں ہوئی ہیں۔ ایک کوشش مثبت انداز میں اور دوسری منفی انداز طریقے سے یعنی متبت سوچنے والوں نے جملہ مزاہب کی اچھی اچھی باتوں کو اپنانے پرتوجہ مرکوز رکھی جبکہ منفی سوچنے والوں نے اپنے عقیدے و مسلک کو عالم گیریت دلوانے کی کوشش پر زور دیا۔ تاریخی طور پر دونوں مکتبہ فکر ناکام ثابت ہوئے۔ مثلا” گرونانک، بھگت کبیر، صوفیائے کرام، راجہ رام موہن وغیرہ نے اس سلسلے میں جو بھی کوششیں کی تھیں۔ اس میں مزید فرقے بنتے گئے۔ دوسری طرف بڑے بڑے مزاہب جن میں بدھ مت، عیسائیت،اتش پرستی ، یہودیت ، بت پرستی اور اسلام اپنے کروڑوں افراد کو اپنا پیروکار بنانے کے باوجود نہ کل بنی نوع انسان کو یکجا کرسکے ہیں اور ناہی تعصبات کی بیخ کنی کرسکے ہیں۔ موجودہ انفارمیشن کے دور میں یہ بات سوچنا کہ آگے چل کر کبھی ساری دنیا کے لوگ کسی ایک مزہب کے دائرے میں شامل ہوجائینگے۔ ایک خوش فہمی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔کسی بھی مزہب کے پھیلاؤ کا ذریعہ تلوار ،تبلیغ اور نسلی آبادی میں اضافے رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسا کوئی مزہب نہیں ہے جو ایسی طاقت و زور، کشش اور تبلیغی نظم رکھتا ہو۔ جو سنجیدگی کے ساتھ ساری دنیا کا واحد مزہب بن جانے کی استعداد رکھتا ہے۔ کسی بھی مزہب کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی کوشش البتہ آبادی کو بڑھانے سی ہی ممکن ہوسکتی ہے۔لیکن مصنوعی زہانت اور مشینی دور میں اس کی بھی اپنی حدود اور پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ ان حالات میں انسانی امن و اتحاد اور بہبود و ترقی کی راہیں ہموار کرنے کا ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے۔کہ وہ بقائے باہمی یعنی
“Co -existance”
کے اصولوں پر یقین و عمل کا طریقہ یعنی ادارہ جاتی مزہبی اجارہ داری اور استحصالی مفادات سے دست کشی اختیار کر لی جائے۔ البتہ مزہب کو انفرادی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ دوسروں کے عقائد ونظریات کا احترام کیا جائے۔تنگ نظری اور تعصب کو چھوڑ دیا جائے۔ اور انسانی معاشروں کی ترقی و امن کیلئے کھلے دل سے ایک دوسرے کے ساتھ امن کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں