ایک کٹورے پانی کی وفا بلوچ سوسائٹی میں سو سال ہوتی ہے، پھر ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو تنہا نہیں چھوڑنا ہے

شفیق الرحمان سسولی

کئی مہذب اقوام میں یہ روایت ضرور ہوگی، تاہم بلوچ اور پشتون روایات میں وفا، غیرت اور مظلوم کا ساتھ دینا ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی پر ظلم ہو، جب کوئی سچ بولنے کی سزا کاٹ رہا ہو، اور جب کوئی اپنے ضمیر کی قیمت ادا کر رہی/ رہا ہو، تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔

ایمان مزاری وہ آواز ہے جو اندھیرے میں جلتی شمع کی مانند ہے۔ وہ طاقت کے ایوانوں کے خلاف حق و انصاف کی بات کرتی، کروڑوں کی آبادی میں مظلوموں کا ساتھ دینے آتی ہے جب طاقتورترین لوگ ان مظلوموں پر ظلم ڈھا رہے ہوتے ہیں، وہ آگے بڑھتی ہے خطرات مول لیتی ہے حق و سچ کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ اور اسی کی پاداش میں وہ نشانہ بن رہی ہے۔ کیا بلوچ اور پشتون اقوام، جن کا تہذیبی ورثہ مظلوم کا ساتھ دینا ہے، اس وقت خاموش رہیں گی؟ بالکل نہیں۔۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے:
“ایک کٹورے پانی کی وفا سو سال نبھائی جاتی ہے”، تو ایمان مزاری کی وہ جرات، وہ سچائی، وہ قربانی، کیا ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟

یہ وقت ہے کہ بلوچ اور پشتون عوام، طلباء، دانشور، اور سیاسی و سماجی تنظیمیں حق کا ساتھ دیں، ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ کل تاریخ ہمیں خاموش تماشائی نہ لکھے۔

آواز اٹھائیں، کیونکہ خاموشی کبھی بھی مظلوم کی ڈھال نہیں بنی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں