ایک اور کوڈا

شہناز احد
کھلے گیٹ سے موٹر سائیکل اندر کرتے ہی گھر کے اندرونی حصے سے آنے والی اماں اور بھابھی کی ملی جلی آوازیں اسے کوڑے کی طرح لگیں، دونوں انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ محکمہ بجلی والوں کو ان کی کوکھ اجڑنے سے لے کے ہر مہذب بددعا دے رہی تھیں، بے اختیار اس کا ہاتھ پشت کے نچلے حصے کی طرف گیا، جہاں اُسے عجیب سی سرسراہٹ اور چپچپاہٹ کا احساس ہو رہا تھا۔ قمیض پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی، پسینے کی چپچپاہٹ کا احساس ہوتے ہی اسے برسوں پرانی وہ دوپہر یاد آ گئی۔ جب اسے چند دوسرے اخباری کارکنوں کے ساتھ جیل کی گاڑی میں ٹھونس کے ناظم آباد کے عید گاہ میدان میں لایا گیا تھا۔ اس میدان سے اس کی نوعمری کی بہت یادیں وابستہ تھیں۔ یہاں انھوں نے سال کے ہر موسم میں دن رات کی تمیز کے بغیر کرکٹ کھیلا تھا۔ اسی میدان کے سرے سے گزرنے والی کالج کی لڑکیوں پر اس نے زندگی کی پہلی سیٹی بجائی تھی اور ان کے پلٹ کے دیکھنے پر اسے اپنا آپ بہت گھٹیا لگا تھا۔

آج اس میدان میں وہ پولیس کی گاڑی سے اتر رہا تھا۔ اگرچہ جیل سے نکلتے وقت ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے جو کچھ ماہ پہلے اس مرحلے سے گزر چکے تھے۔ بتایا بھی تھا کہ کوڑوں کی تکلیف کو کس کس طرح کم محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اس کی چڑھتی جوانی تھی اور جوانی کے زعم میں ہر شے حقیر لگتی تھی۔ اُن دنوں وہ ایک مقامی اخبار کا رپورٹر تھا، ملک میں ہمیشہ کی طرح مارشل لا کا دور دورہ تھا۔ گزرے وقت کو سوچتے ہوئے آج بھی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔

تعلیم سے فراغت کے بعد اخباری رپورٹر کی نوکری اس کی پہلی ملازمت تھی۔ پہلے عشق کی طرح اسے بھی اپنی نوکری سے ایسا ہی پیار تھا۔ اس کے مزاج اور اخباری نوکری نے مل کے اسے دو آتشہ بنا دیا تھا۔ ان دنوں اخبارات، رسائل صبح شام کی طرح بند ہو رہے تھے۔ بے روزگار ملازمین کے احتجاج کا سلسلہ زوروں پر تھا۔ صحافی اور اخباری کارکن مل کے جلسے جلوس کرتے پھر ہر شام بے روزگاروں کا جلوس وکٹوریہ روڈ سے ہوتا ہوا ریگل چوک تک جاتا، وہ جلوس کی اگلی صف میں سب سے بلند آواز میں نعرے لگاتا، گرتی دیواروں کو دھکے دیتا، انقلاب کو پکارتا، ڈکٹیٹروں کو برا بھلا کہتا، اچھلتا کودتا، جلوس کی قیادت کرتا ریگل چوک پہنچا تو سامنے کھڑی پولیس، ان کی گاڑیوں اور ان کی پشت پر کھڑی کچھ اور گاڑیوں، اُن میں بیٹھے افراد کو دیکھ کے اُسے جیسے نعروں کا دورہ پڑ گیا تھا۔

گزشتہ چند دنوں سے اس مقام پر قانون نافذ کرنے والوں اور مملکت خداداد کے اصل وارثوں کے درمیان پکڑ دھکڑ کی آنکھ مچولی چل رہی تھی۔ مملکت کے اصل وارث گلیوں میں آگے پیچھے ہو جاتے، دو چار قانون کے لمبے ہاتھوں چڑھ بھی جاتے۔ اس دن بھی جب نعرے لگاتا جلوس ریگل چوک پہنچا تو قانون نے ہجوم پر گیس شیلنگ کر دی۔ وہ کتابوں کی دکان کے پاس کھڑا اپنا رومال گیلا کر رہا تھا کہ ایک شیل بنا پھٹے اس کے قدموں میں گرا، اس نے جھک کے شیل کو اُٹھایا اور سڑک پار کھڑے قانون محافظین کی جانب ایک عدد گالی کے ساتھ اچھال دیا اور دوبارہ اپنے رومال کو گیلا کرنے لگا۔ جب ہی کسی نے پیچھے سے قمیض کا کالر پکڑ کے کھینچا، گردن موڑتے ہوئے اسے تین پھول نظر آئے، ساتھ ہی زناٹے دار تھپڑ کے ساتھ گالی ملی، تین پھولوں والا اسے کالر سے کھینچتا اس جیپ تک لے گیا جس پر اس نے شیل اُچھالا تھا۔

جیپ کے برابر ہی قیدیوں کو لانے والی نیلے رنگ کی زنگ آلود گاڑی کھڑی تھی۔ گاڑی میں ڈالتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اسی وزن کی گالی سے نوازا جو اس نے شیل کے ساتھ ان کی طرف اُچھالی تھی۔ چند لمحوں بعد اس کی آنکھیں گاڑی کے اندرونی ماحول سے آشنا ہوئیں تو اسے دیگر لوگوں کے ساتھ چند شناسا چہرے بھی نظر آئے۔ گاڑی میں موجود زیادہ تر لوگ خود کو بے گناہ ثابت کرتے ہوئے زار و قطار روتے ہوئے ایک دوسرے کو بتا رہے تھے کہ بھیا مارشل لا کا زمانہ ہے، جیل ہی میں عدالت لگتی ہے اور سب کو کوڑوں کی سزا مل رہی ہے۔ اس نے اپنے شناسا چہروں کی طرف مسکرا کے دیکھا اور گردن جھکا لی تھی۔

جیل کی اگلی صبح وہ شامیانے تلے بنی دو کرسیوں اور ایک میز والی عدالت کے روبرو کھڑے تھے۔ دو پھول والے نے بمع ولدیت نام پکارا، پیشہ پوچھا اور میز پر رکھے کاغذ کو تین پھول والے کی طرف بڑھا دیا۔ کاغذ ہاتھ میں تھامتے ہی اس نے جس تیزی سے فیصلہ سنایا اسے سن کے لگا اس نے رات بھر نیند میں فیصلہ رٹا تھا۔ فیصلے کے مطابق ان کا جرم نعرے لگانا اور شیل پھینکنا تھا۔ اس کی سزا پانچ کوڑے، دو ماہ قید بامشقت اور پانچ ہزار روپے جرمانہ تھا۔ کوڑے سزا کے آخری دن لگنے تھے۔ جیل کے ساٹھویں دن پھر سے زخم خوردہ، زنگ آلودہ گاڑی میں ٹھونس کے ناظم آباد کے عیدگاہ میدان میں ایک جمع کردہ ہجوم کے سامنے کوڑوں سے نوازا گیا، تکلیف تو بہت ہوئی۔ لگتا تھا پشت کے آخری حصے پر انگارے رکھ دیے ہیں یا زخم پر نمک مرچ ایک ساتھ تھوپ دیا ہے اس کوڑا شو کے اختتام پر جب تماشبین اور قانون والے بکھر گئے تو اس سے اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہوا گیا۔ جب ہی برابر سے ایک شفقت بھرے ہاتھ نے اسے یوں تھام لیا گویا اس کا سارا وجود سمیٹ لیا ہو۔

وہ بڑ بھیا تھے۔ بنا کچھ بولے اپنے سہارے پر لئے آگے بڑھتے رہے۔ مجھے یہ احساس شرمندگی شدت سے تھا کہ تماش بینوں کے ہجوم میں بڑ بھیا بھی تھے۔ عید گاہ کے گیٹ سے بڑ بھیا کی فوکسی کسی پری زاد کی طرح چمک رہی تھی۔ گھر جانے سے قبل بڑ بھیا اپنے دوست کے کلینک لے گئے۔ دوا دارو، مرہم پٹی کے بعد جب گھر پہنچے تو گھر میں داخل ہونے سے پہلے بڑ بھیا نے صرف ایک جملہ کہا ”آئندہ ایسا نہ ہو، ہمارا تعلق معاشرے کے جس سفید پوش طبقے سے ہے ہم جیل، پولیس، کچہری، سیاست بازی کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے“۔ آئندہ ایسا تو کیا، ویسا بھی نہ ہو سکا، نوکری نامی شہزادی تو کوڑوں سے پہلے ہی داغ مفارقت دے چکی تھی۔

اس کی تلاش میں ادھر اُدھر چکر لگانے شروع کیے تو ہر اخبار رسالے کا دروازہ بند ملا۔ چند ماہ قبل یہ ہی سب تھے جو میری گرما گرم رپورٹنگ سے مرعوب تھے اور پچھلے دروازے سے بلا کے نوکری کی پیش کش کرتے تھے۔ کوڑوں کی سزا کے بعد نوکری کا نہ ملنا مجھے نہ صرف کوڑوں کی اذیت یاد دلاتا ہر دفتر کی نا مجھے کوڑے ہی کی طرح لگتی بھی تھی اور بے اختیار میرا ہاتھ کمر کے نچلے حصے کی طرف چلا جاتا، اسی ہیرا پھیری میں ہر ہفتے مجھے انکار نامی لفظ کے ایک دو کوڑے لگتے اور میں صرف کمر کا آخری کونا سہلاتا رہ جاتا۔ بیروزگاری کے کوڑے کھاتے جب کئی ماہ گزر گئے تو ایک روز اماں نے مجھے اپنے ایک رشتے دار سے ملواتے ہوئے کہا ”بھیا اس کی نوکری کا کچھ کرو تمہارے تو بڑے لوگوں سے تعلقات ہیں، بس اخبار کی نہ ہو“۔

اماں کا جملہ ان کے رشتے دار کی مسکراہٹ اور خود اپنی مسکراہٹ سب مل کے کمر پر کوڑے کی طرح لگیں۔ انھوں نے میری قابلیت کا ہلکا پھلکا امتحان لیا اور وہیں بیٹھے بیٹھے ایک نوکری کی آفر کردی۔ نوکری کی تفصیلات جان کے مجھے ایک بار پھر سے ناظم آباد عیدگاہ کی وہ سہ پہر یاد آ گئی جس نے میری زندگی کا ورق پلٹ کے مجھے الف پر کھڑا کر دیا تھا۔ میری نوکری درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی طرح گھر کی ضرورت بھی تھی۔ ہمارے ماں باپ ہمیں اسی دن کے لئے تو پڑھاتے، لکھاتے ہیں کہ بیٹا اچھی سی نوکری کرے اور گھر میں آمدنی کا ذریعہ بنے۔ اپنی سوچیں بھی مجھے کسی کوڑے کی طرح لگنے لگی تھیں۔ اگلی صبح میں ایک میمن کے دفتر میں بیٹھا اس کی ملگجی انگریزی، اردو سن رہا تھا۔ اس کا چاول صاف کرنے سے ایکسپورٹ کرنے تک کا ایک مکمل پیکج بزنس تھا۔ چندریگر روڈ کی ایک پرانی عمارت میں اس کا تین کمروں کا ادریس پٹیل اینڈ سنز نام کا دفتر اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چاول کی فیکٹری تھی۔

پٹیل اینڈ سنز کے دفتری کمرے چاول کی باس سے مہک رہے تھے۔ ادریس پٹیل کے مطابق پیسہ بہت ہے بس ایک اچھا انگریزی بولنے لکھنے والے کی ضرورت ہے۔ جو ادھر اُدھر خط لکھ سکے، ٹیلی فیکس بھیج دے، غیر ملک سے آنے والے تاجروں سے بزنس کی گفتگو کر سکے۔ اس سب کے لئے انھیں میرے جیسے پڑھے لکھے بے روزگار کی شدت سے تلاش تھی۔ ادریس پٹیل نے گفتگو کے پانچویں منٹ، ملازمت کی پیش کش اور اپنے برابر کی کرسی میز میرے حوالے کرتے ہوئے کرسی کی پشت پر پڑے تولیے سے اپنے پان زدہ ہونٹوں کو رگڑا تو بے اختیار میری نظروں میں عیدگاہ میدان کی ٹکٹکی پر لٹکا وہ خون زدہ کپڑا گھوم گیا جو باری باری کوڑے لگنے والوں کی پشت کے نچلے حصے پر ڈالا جاتا تھا۔

ایک جھرجھری لیتے ہوئے میں نے بے اختیار نظریں جھکا لیں۔ ادریس پٹیل اپنی بہت سی ناقابل برداشت حرکات کے باوجود ایک بہتر انسان ثابت ہو رہے تھے۔ نوکری کے تین ماہ بعد انھوں نے ایک استعمال شدہ موٹر سائیکل عنایت کردی اور کچھ دن گزرے تو پٹرول کی مد میں پچاس روپے بھی دینے لگے۔ جب کوئی اچھا تجارتی معاہدہ ہو جاتا تو اپنے ساتھ کھانا بھی کھلا لیتے۔ بذریعہ میری نوکری گھر میں بھی خاصی خوش حالی نظر آنے لگی تھی۔ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ گوشت پکنے لگا، اماں ابا کا بلڈ پریشر دوا کے بنا تعطل استعمال کی وجہ سے بالکل ٹھیک رہنے لگا، گھر کا وہ کمرہ جسے کبھی کبھار آنے والوں کے لئے سجایا سنوارا جاتا تھا اس کے صوفے کور اور پردے تبدیل نظر آتے، اماں ابا کے چہروں پر نظر آنے والی نامعلوم سختی ایک دھیمی مسکراہٹ میں بدل گئی، بھیا نے گھر کی اکلوتی بلبل یعنی بیٹی کا اسکول تبدیل کر دیا اور وہ اسکول گاڑی سے آ، جا رہی تھی، کامنی بھابھی بھی آتے جاتے مسکراتی سی لگتیں۔ انھیں بھی اسکول میں ترقی مل گئی، سب کچھ اچھا اچھا ہو گیا بس ایک میری پشت کی جلن اسی طرح تھی۔

نوکری کرتے دو سال گزرے تو اماں نے بر صغیر کی ساری ماؤں کی طرح گھر میں ایک اور بہو لانے کا واویلا شروع کر دیا۔ شاید ان کا دل ابھی بہو لانے کے شوق سے بھرا نہیں تھا۔ میری تنخواہ دس ہزار سے اوپر چلی گئی تھی۔ ادریس بھائی مجھ سے بہت خوش رہتے، بزنس کے کاموں سے اپنے ساتھ دوبئی بھی لے گئے لیکن میں خود عید گاہ میں گزری اس شام کے بعد خوش نہ ہوسکا۔ میرے من میں ہر وقت سوئی کی نوک برابر چیونٹیاں چلتی ہیں۔ یہ چیونٹیاں نظر تو نہیں آتیں لیکن کاٹتی بہت ظالمانہ طریقے سے ہیں اور تکلیف کا احساس بتاتا ہے کہ وہ گزری ہیں۔

چندریگر روڈ پر ہر صبح شام گزرتے جب بھی میری نظر اخبار کی عمارت پر پڑتی ہے ہر بار میرے اندر بہت اندر ایک چھناکا سا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی کمر کے نچلے حصے پر کچھ سرسراتا ہے، کانوں میں کوڑے کی آواز گونجتی ہے اور تکلیف کا احساس سب کچھ بھلا دیتا ہے۔ وقت اپنی چالیں چلتا رہا کہ ایک دوپہر آفس میں بھابھی کا گھبراہٹ سے بھرپور فون آیا ”تمھارے بڑ بھیا آفس میں نہیں ہیں، ابا باتھ روم میں گر گئے ہیں جلدی پہنچو“۔

ابا کیسے گر سکتے ہیں بھلا، ابا بھی کبھی گرے ہیں، وہ تو گرتے بچوں کو تھام لیتے ہیں، وہ نہیں گر سکتے، ہونٹوں میں بدبداتا باہر نکلتا چلا گیا، پتا نہیں اڑتا یا بھاگتا ہوا کیسے گھر پہنچا کچھ یاد نہیں، بس دروازے پر کھڑی ایمبولینس، اسٹریچر پر لیٹے ابا، دروازہ تھام کے کھڑی دھلے لٹھے جیسی شکل والی اماں، میری شکل دیکھتے ہی انھوں نے رونا شروع کر دیا۔ بنا جذباتیت کے اظہار کے میں نے ان کے کاندھے کو چھوا اور اچک کے ایمبولینس میں سوار ہو گیا میں اس لمحے ذہنی طور پر قطعی قلاش تھا، میری سوچیں کوڑوں کی طرح میری روح اور چہرے پر پڑ رہی تھیں، جب ہی کچھ خیال آنے پر ڈرائیور سے پوچھا ہم کہاں جا رہے ہیں؟

بیک ویو مرر میں دیکھتے ہوئے رٹو طوطے کی طرح اس کا جواب آیا ”جناح ہسپتال“ ساتھ ہی سوال کیا آپ کہیں اور جانا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار میں گردن ہلاتے ہوئے ابا کی طرف دیکھا ان کی پیشانی سے بہنے والا خون چہرے پر جم چکا تھا، آنکھیں بند، چہرے پر سوجن، دایاں ہاتھ اور پاؤں بھی سوجے ہوئے تھے۔ میں نے دھیمے سے ابا کو پکارا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ میری اب تک کی زندگی کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ ایسے سارے کام بڑ بھیا ہی کرتے تھے۔

اپنی معلومات کی کمزوری کسی کوڑے کی طرح لگی۔ ہسپتال ایمرجنسی کے دروازے پر ایمبولینس نے ابا کو ایک اسٹریچر سے دوسرے اسٹریچر پر منتقل کیا اور دو سو روپے دبوچ کے یہ جا وہ جا ہو گیا۔ میری بے بسی، کم علمی، اور ناتجربہ کاری شاید چہرے پر لکھی نظر آ رہی تھی۔ تب ہی ایک صفائی پر مامور بندہ خدا نے اپنی خدمات پیش کیں اور اسٹریچر کو دھکیلتا ہوا روز محشر جیسی جگہ پر لے گیا، بڑی مشکلوں سے خود کو سنبھالا، قدموں کو مضبوط بنایا اور ادھر سے اُدھر آتے جاتے انسانیت کے مسیحاؤں کو دیکھتے ہوئے ان کی توجہ کا انتظار کرنے لگا۔

میرے چاروں اُور زخمی، مردہ، نیم مردہ انسانیت اسٹریچر اور بستر پر انسانیت کے مسیحاؤں کا انتظار کر رہی تھی۔ ہر چند منٹ بعد کمر کے آخری حصے میں کچھ گرم، نرم کا احساس ہوتا، ہاتھ لگا کے دیکھتا تو کچھ نہ ہوتا، اس بیچ بڑ بھیا آچکے تھے لیکن وہ بھی میری طرح ٹکٹکی پر بندھے آتے جاتے مسیحاؤں کو تک رہے تھے۔ صبح اذانوں کے وقت ابا نے خون کی بڑی سی قے کی اور ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں۔ مسیحاؤں میں سے ایک نے ہاتھ میں پکڑی فائل کا پیٹ بھرتے ہوں کہا لگتا ہے، بڑے صاحب کے سر میں اندرونی چوٹ تھی۔

ان سات، آٹھ گھنٹوں کی بے بسی، بے وقتی، بے کسی کوڑوں سے ملنے والی تکلیف سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ میری پشت پر بہتا احساسات کا سیال کمر کے نچلے حصے سے بہتا، بہتا میرے قدموں تک جا پہنچا، میری آنکھیں کیکر کی طرح خشک لکڑی بن گئیں، کچھ نہ کر سکنے کا احساس اندر ہی اندر چھید رہا تھا۔ ابا کیا گئے! زندگی ناظم آباد عیدگاہ کی ٹکٹکی بن گئی، صبح شام کوڑے لگتے ہیں۔ ہر سویرے پانی اور گیس کے نہ ہونے کا کوڑا، گھر کے باہر سڑک کے اژدھام کا کوڑا، دفتر میں حاجتوں، ضرورتوں، دفتری احکامات، ٹیکس چوری، مال کی کوالٹی تبدیلی سمیت اور بہت سی باتوں کے کوڑے، شام ڈھلے گھر نامی چھت کے لئے آؤ تو پھر سے بجلی، پانی نہ ہونے کے کوڑے۔

اماں کہتی ہیں تو اپنے بڑ بھیا سے بڑا لگنے لگا ہے، بالوں میں سفیدی اتر آئی ہے، اتنا مت سوچا کر، ہنسا بولا کر، تیری عمر کے سب دو، دو بچوں کے باپ بن گئے ہیں، چند سال بعد خیر سے اپنی بلبل بھی دوسرے گھر کی ہو جائے گی، تجھے نا جانے کس بات کی ضد ہے، ہر بات کے جواب میں گھڑیال کے پنڈولم کی طرح گردن ہلا دیتا ہے، ہر کام کی ایک عمر ہوتی ہے، وقت بھاگا جا رہا ہے تو کیسا بوڑھا سا لگنے لگا ہے۔ اماں کی باتوں کے کوڑے ہفتے میں ایک بار ضرور لگتے ہیں۔ کئی بار دل چاہتا ہے اماں سے کہوں ”عمر برسوں سے نہیں بڑھتی، زندگی کی ٹکٹکی پر صبح شام لگنے والے بجلی، پانی، گیس، مہنگائی، جھوٹ بے ایمانی، دھوکہ دہی، حرام خوری، بدمعاشی، بے کسی، بے ثباتی، بے بسی کے کوڑے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتے ہیں۔ میں تو بس ایک اور کوڑے کے انتظار میں زندہ ہوں!

اپنا تبصرہ بھیجیں