لورالائی(این این آئی) منشیات کے خلاف جنگ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، منشیات کی کاشت اور اس کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔لورالائی میں منشیات کے خاتمے سے متعلق ایک اہم اجلاس ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ، ایس ایس پی لورالائی ملک محمد اصغر، ایس پی دکی انور بادینی، میجر عرفان (لورالائی اسکاؤٹس ایف سی)، نوراللہ ڈائریکٹر آئی بی، اے ڈی ذیشان احمد (اینٹی نارکوٹکس)، جمیل احمد (ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر لورالائی) سمیت مختلف انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی لورالائی جنید احمد شیخ نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد اور طبقے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ منشیات ایک مہلک زہر ہے جو فرد، خاندان اور معاشرتی اقدار کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ایسے علاقے جہاں منشیات کی کاشت ہوتی ہے وہاں لوگ رفتہ رفتہ اسی لعنت کا شکار ہو جاتے ہیں، جو معاشرتی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ڈی آئی جی لورالائی نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کی کاشت کاری اور اس کے کاروبار کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے تمام محکموں کو مشترکہ حکمتِ عملی اور مربوط آپریشنز کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریاں احسن طور پر ادا کرتے ہوئے مشینری، اسپرے اور دیگر وسائل کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی تاکہ کاشت کے علاقوں کی بروقت نشاندہی اور تلفی ممکن ہو سکے?نہوں نے بتایا کہ پولیس، لیویز، اینٹی نارکوٹکس اور انٹیلی جنس اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں جو منشیات کی کاشت کے ممکنہ علاقوں کا سروے کرکے مؤثر کارروائیاں کریں گی۔ جو بھی شخص اس گھناؤنی سرگرمی میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف بلا امتیاز اور سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈی آئی جی لورالائی نے جاری آپریشنز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لورالائی رینج میں شاہکاریز، ڑڑکاریز، برگانون لغئی اور کلی منارہ کے علاقوں میں تقریباً 24 ایکڑ پر مشتمل تاریاک (افیون) اور بھنگ کی فصلیں تلف کی گئیں۔ کارروائی کے دوران پانی کے بور بند کیے گئے، سمرسیبل اور سولر پینلز ضبط کیے گئے جبکہ زیرِ استعمال ٹھکانوں کو مسمار بھی کر دیا گیااجلاس کے اختتام پر ڈی آئی جی لورالائی نے عوام، قبائلی معتبرین، والدین، نوجوانوں، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر اس ناسور کے خلاف متحد ہو جائیں تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا معاشرہ منشیات سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا۔

