مسلغ جنگل میں خالی آسامیوں پر فوری معاہدے کے مطابق بازئی اقوام کے افراد کی تقرری عمل میں لائی جائے،بازئی قومی کمیٹی کا مطالبہ

کوئٹہ(این این آئی)بازئی قومی کمیٹی(مسلغ) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلغ جنگل میں خالی اسامیوں پر فوری طور پر معاہدے کے مطابق بازئی اقوام کے افراد کی تقرری عمل میں لائی جائے تاکہ بازئی اقوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 1950ء میں ماری ذاتی ملکیت جو کہ مسلغ جنگل کے نام سے مشہور ہے اور جس کا کل رقبہ 115105ایکڑ پر مشتمل ہے محکمہ جنگلات کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت شامل کیا گیا یہ جنگل بنیادی طور پر فروٹ(شینہ) کے درختوں پر مشمل تھا جس کی ملکیت بازئی اقوام کے پاس تسلیم کی گئی تھی معاہدے کے مطابق مسلغ جنگل میں موجود درخت(جلانے کیلئے) کی ملکیت بازئی اقوام کی ہوگی، مسلغ جنگل جوکہ فروٹ شینہ پر مشتمل ہے اسکی ملکیت صرف اور صرف بازئی اقوام کی ہوگی جنگل میں جتنے بھی تعمیراتی کام ہونگے انکے ٹھیکے بازئی اقوام کے ٹھیکیداروں کو دیئے جائیں گے اور مسلغ جنگل میں پیدا ہونے والی تمام اسامیوں پربازئی اقوام کے افراد کی تقرری عمل میں لائی جائے گی،مسلغ جنگل میں کاشتکاری پرانے چشمہ جات اورکاریزات کے استعمال کا حق بھی صرف بازئی اقوام کے پاس ہوگا ان شرائط کے مطابق محکمہ جنگلات کے ساتھ معاہدہ طے پایا اس معاہدے پر تقریباً1977ء تک تمام شرائط پر باقاعدگی سے عملدرآمد ہوتا رہا تاہم بعد میں محکمہ جنگلات کی جانب سے بازئی اقوام کے تمام جائز حقوق پامال کئے ئے اور معاہدے کی شرائط کو نظرانداز کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ اب محکمہ جنگلات میں مختلف اسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے بازئی اقوام کے نوجوانوں نے امتحانات کامیابی سے پاس کئے ہیں اور اب انٹرویو کا سلسلہ جاری ہے لہذا بائی قومی کمیٹی محکمہ جنگلات کے حکام بالا سے مطالبہ کرتی ہے کہ معاہدے کے مطابق مسلغ جنگل کی خالی اسامیوں پربازئی اقوام کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے بصورت دیگر بازئی قومی کمیٹی احتجاج سمیت قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں