تربت میں شہید ڈاکٹر یاسین بلوچ کی 10 ویں برسی، نیشنل پارٹی کے مرکزی قائدین نے خراج عقیدت پیش کیا

تربت(رپورٹر)شہید ڈاکٹر یاسین بلوچ کی 10 ویں برسی کی مناسبت سےآج بمورخہ 12نومبر2025 ایک عظیم الشان جلسہ ریجنل سکریٹریٹ تربت میں منعقد ہوا، جس میں نیشنل پارٹی کے مرکزی قائدین اور کارکناں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی،

جلسے کے مہمان خاص نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ تھے،دیگر مہمانانِ گرامی میں مرکزی سکریٹری جنرل میر کبیرمحمد شہی، وحدت بلوچستان کے صدر اسلم بلوچ، مرکزی سینئر نائب صدر شاوس بزنجو، مرکزی خواتین سکریٹری یاسمین لہڑی، وحدت بلوچستان کے جنرل سکریٹری چنگیز حئی بلوچ تھے،

جلسہ عام میں ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ،کبیرمحمدشہی،اسلم بلوچ، یاسمین لہڑی،چنگیزحئی بلوچ، میرشاوس بزنجو،واجہ ابولحسن بلوچ،کہدہ اکرم بلوچ، میرحمل بلوچ، حاجی محمد ایوب پنجگوری،رجب یاسین بلوچ، ڈاکٹر نور بلوچ نے خطاب کیا۔ مقررین نے شہید ڈاکٹریاسین بلوچ کو بلوچستان کی قوم پرستانہ سیاست سمیت بلوچ اقوام کےساحل وسائل کی دفاع کےجدوجہد کے سلسلےمیں خراج عقیدت پیش کرتےہوئےکہا کہ شہید ڈاکٹریاسین بلوچ ہمیشہ بلوچ اقوام کے دلوں میں زندہ رہے گاکیونکہ شہید ڈاکٹر یاسین بلوچ نےاپنی پوری زندگی بلوچستان کے عوام کو منظم کرنے کی کوشش میں گزاری،آخری لمحات بھی بلوچ اقوام کے نام کردی،مقررین نے مزید کہاکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے 1973ء کے آئین کی اصل روح کو مسخ کردیا ہے مزکورہ آئین اب نہ جمہوریت کو تحفظ دے سکتا ہے نہ ہی محکوم قوموں کے مفادات کو تحفظ دے سکتا ہے،

بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی ڈائیلاگ اور مثبت بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے، بلوچستان کے عوام پر اسٹیبلشمنٹ اپنا بیانیہ زبردستی تھوپنے کی کوشش کررہا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں بلوچستان کے اصل قومی قیادت جس کو مکمل عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اسے غیر جمہوری انداز میں عوامی نمائندگی سے روکنا اور اپنی من پسند لوگوں کو سلیکٹ کرنے کی وجہ سے بلوچستان کے حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں، بلوچستان میں قومی محکومی اور سیاسی محرومی روز بروز بڑھتی جارہی ہےجس کی بدولت جمہوری سیاست سے نوجوانوں کی اعتماد میں کمی اور احساس بیگانگی بڑھ رہی ہے ، بلوچستان کے عوام کو اس حد تک شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو ووٹ کا حق بھی نہیں دیاجارہااور حقیقی سیاسی قیادت کو فارم 47کے ذریعے روک کر سیاسی بیگانگی کو مذید بڑھایا جارہا ہے جو کہ ملکی آئین اور سلامتی کے لئے کسی صورت نیک شگون نہیں،انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ملک میں آئین کی بالادستی اور مظلوم و محکوم اقوام کی سیاسی و معاشی حقوق کے حصول کے لئے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی،تمام جمہوری قوتوں کو جمہوریت اور آئین کی بقا کے لئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے،

بلوچستان جل رہا ہے لوگوں کو مخبری اور سہولت کاری کے نام پر قتل کیا جارہا ہے جس میں دونوں طرف نقصان بلوچ اقوام کا ہورہا ہے بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی ڈائیلاگ اور مثبت بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے بندوق اور طاقت کسی مسلہ کا حل نہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں