موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد غیر دانشمندانہ اور عوامی مشکلات میں اضافہ کا باعث ہوگا،جمعیت علماء اسلام کوئٹہ

کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حاجی بشیر احمد کاکڑ، حاجی رحمت اللہ کاکڑ،حافظ شبیر احمد مدنی،سید حاجی عبد الواحد آغا حافظ مسعود احمد اور دیگر رہنماؤں نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد غیر دانشمندانہ اور عوامی مشکلات میں اضافہ کا باعث ہوگا۔جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا کہ کوئٹہ شہر اس وقت گیس، بجلی، پانی، صفائی اور امن و امان کے سنگین بحران سے دوچار ہے۔ تین سال سے زائد عرصہ تک بلدیاتی ادارے غیر فعال رہے، ان کے اختیارات منجمد کیے گئے، اور عوامی نمائندوں کو بے اختیار رکھا گیا۔ اب جبکہ ان اداروں کی مدت اختتام کو ہے، اچانک بلدیاتی انتخابات کا اعلان سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرد موسم، نقل مکانی، اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر عوامی شرکت کم ہوگی، جس سے انتخابی نتائج متنازع بن سکتے ہیں۔انہوں نیکہا گیا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن کو چاہیئے تھا کہ پہلے شفاف حلقہ بندیاں، بہتر سیکیورٹی پلان، اور انتظامی تیاریوں کو یقینی بناتے، مگر افسوس کہ انتخابی شیڈول عجلت میں جاری کیا گیا ہے۔ اس عمل نے عوامی اعتماد کو متزلزل کیا ہے اور جمہوری عمل کی ساکھ پر سوال کھڑا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہمیشہ شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابات کی حامی رہی ہے، مگر موجودہ حالات میں بلدیاتی انتخابات عوامی ریلیف کے بجائے سیاسی تماشا محسوس ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت نے حالات کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی انتخابی عمل کو آگے بڑھایا تو عوامی ردِعمل کی ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ضلع کوئٹہ نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے رابطہ کرکے ایک آل پارٹیز کمیٹی برائے مسائلِ کوئٹہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مشترکہ مؤقف اور آئندہ حکمتِ عملی طے کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے عوام کو صرف ووٹ ڈالنے کا حق نہیں بلکہ سہولت، تحفظ اور شفاف نمائندگی کا حق بھی دیا جائے۔ جمہوریت کی اصل روح عوامی خدمت میں ہے، نمائشی انتخابات میں نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں