ژوب (این این آئی)بلوچستان میں قدرتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی زور و شور سے جاری ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں، خصوصاً شیرانی،ژوب میں چلغوزے، زیتون جیسے قیمتی درختوں کی کٹائی روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہے قدرتی جنگلات جو نہ صرف علاقے کے موسم کو معتدل رکھتے تھے بلکہ جنگلی حیات کا قدرتی مسکن بھی تھے، اب تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، بلوچستان کے قدرتی جنگلات کے خاتمے سے موسمی تبدیلیاں شدت اختیار کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف بارشوں کے نظام میں خلل پڑ رہا ہے بلکہ خشک سالی اور زمینی کٹاؤ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے قائم سرکاری ادارے مکمل طور پر خاموش نظر آتے ہیں۔ متعلقہ محکموں کی عدم توجہی اور مقامی سطح پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے لکڑی مافیا بلاخوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، لکڑی مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے، اور قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے شجرکاری مہم کو فعال اور مؤثر بنایا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے چند برسوں میں بلوچستان کے قدرتی جنگلات مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔

