لاہور (این این آئی) فاؤنڈر ز گروپ کے سرگرم رکن،پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ رپورٹس کے مطابق حالیہ سالوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ مقامی سرمایہ کاری بھی سست روی کا شکار ہے جس سے مقامی کاروباروں کوسرمائے کی قلت کا سامناہے،پاکستان سے کاروبار سمیٹنے اور سرمایہ بیرون ممالک منتقل کرنے کے رجحان بھی اضافہ دیکھا جارہاہے جو تشویش کا باعث ہے۔ اپنے بیان میں خادم حسین نے کہا کہ بہت سے ممالک مینو فیکچررز کو غیر معمولی سہولیات اور مراعات کی پیشکش کررہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں سے کاروبار سمیٹنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور بہت سے لوگ مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بلند ٹیکس اور توانائی کی قیمتیں بھی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہیں کیونکہ پیداواری لاگت بڑھنے سے خالص منافع کم ہو رہا ہے جبکہ دیگر گھمبیر مسائل اس کے علاوہ ہیں۔ یہ بھی رجحان ہے کہ نیا کاروبار لگانے کی بجائے مقامی ادارے بیرون ملک واپس جانے والی کمپنیوں کے کاروبار خرید رہے ہیں جس سے مقامی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی بلکہ یہ رقم بیرون ملک جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دبئی کے تقریباً صفر فیصد انکم ٹیکس، ہموار ویزا نظام اور کاروبار دوست ماحول کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا، جہاں قیام کے اخراجات بہتر بنیادی ڈھانچے اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے پورے ہوتے ہیں اور خطرے کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کے بعد منافع اکثر دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے پاکستان کوبھی اسی طرز پر سہولیات اور مراعات دینا ہوں گی۔

