ایران سے لینڈ روٹ کے ذریعے سکریپ درآمد کنندگان پر عائد الزامات بے بنیاد،جھوٹ کا پلندہ ہیں، حاجی محمدایوب

کوئٹہ(این این آئی) اسکریپ امپورٹر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد ایوب ودیگر عہدیداران نے پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسر (PALSP)کی جانب سے ایران سے لینڈ روٹ کے ذریعے اسکریپ درآمد کنندگان پر عائد الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے اسے ری رولنگ انڈسٹری کے خلاف سازش قرار دیا ہے اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف،عدلیہ، نیب اور ایف آئی اے سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان سے قانونی زمینی تجارت کو محض غلط بیانی اور مفاداتی مہمات کے تحت نقصان پہنچانے کی سازشوں کانوٹس لیں اور ان بڑی مچھلیوں کے انڈر انوائسنگ و دیگر مدات میں کرپشن کو بے نقاب کرنے کیلئے فارنزک یا انٹر نیشنل آڈٹ فرم کے ذریعے آڈٹ کر کے ان کی ٹیکس چوری کو بے نقاب کریں تاکہ غلط بیانی اور مفاداتی مہمات کی بنیاد پر قانونی زمینی تجارت متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسر (PALSP)کی جانب سے زمینی راستے سے اسکریپ کے درآمد کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کیا گیاجس پر کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے نوکنڈی،دالبندین،نوشکی اور بولان میں اسکریپ سے لدی 38 گاڑیاں روکی اور مکمل جانچ پڑتال، دوبارہ وزن اور لوڈنگ کے بعد تمام گاڑیوں کے اندر انوائسنگ وزن و دیگر درست پایا اور پھر انہیں چھوڑ دیا گیا جس سے PALSP کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی بھی بے نقاب ہوئی البتہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کو لوڈنگ،ان لوڈنگ و دیگر امور کی وجہ سے کروڑوں روپے کے نقصانات ہوئے اور قانونی تجارت پر قد غن لگا اور ڈیمرج ڈیٹینشن بھی ہوا،ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زمینی راستوں سے ری رول اسکریپ کا پانچ فیصد سے بھی کم درآمد کی جا رہی ہے جسے اسٹیل انڈسٹری کو کوئی خطرہ نہیں، انہوں نے کہا کہ لارج اسٹیل پروڈیوسر کی اجارہ دارانہ رولنگ کے باعث 300 سے زائد ری رولنگ اسٹیل یونٹس بند ہو چکے ہیں لارج اسٹیل پروڈیوسر کے ان ہتھکنڈوں کا مقصد اسٹیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھانا اور چھوٹے ری رولنگ ملز کو نقصان پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لارج اسٹیل پروڈیوسر ہمارے قانونی امپورٹ کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں دراصل وہ خود سمندری راستے سے انڈر انوائسنگ لاکھوں ٹن اسکریپ درآمد کر رہے ہیں ساتھ ہی قیمتی آٹو پارٹس کو ری ملٹنگ اسکریپ ظاہر کرکے کلیئر کرایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے اسٹیل میلٹنگ انڈسٹری کیلئے جی ایس ٹی یونٹ 700یونٹس جبکہ ری رولنگ انڈسٹری کیلئے 110یونٹس مقرر کی گئی ہے قابل حیرت امر یہ ہے ک جدید ٹیکنالوجی اور مینول دونوں کو یکساں جی ایس ٹی فکسیشن دی گئی ہے حالانکہ دونوں کی پیداواری صلاحیت،کارکردگی اور آؤٹ پٹ ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں اس کے علاوہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مکمل تیار شدہ آئٹمز پر فی کلوتقریبا ر32روپے اور خام مال پر فی کلوتقریبا 42 روپے لگانا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پر ماحولیات کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود 100 فیصد میوٹیلشن کی اجازت ہے جبکہ عام درآمد کنندگان کو صرف 10 فیصد کی اجازت ہے جو مایوس کن ہے ہم وزیر اعظم میاں شہباز شریف،عدلیہ، نیب اور ایف آئی اے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے قانونی زمینی تجارت کو محض غلط بیانی اور مفاداتی مہمات کے تحت نقصان پہنچانے کی سازشوں کانوٹس لیں اور ان بڑی مچھلیوں کے انڈر انوائسنگ و دیگر مدات میں کرپشن کو بے نقاب کرنے کیلئے فارنزک یا انٹر نیشنل آڈٹ فرم کے ذریعے آڈٹ کر کے ان کی ٹیکس چوری و دیگر کو بے نقاب کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں