صحبت پور (رپورٹڑ) ضلع صحبت پور کے تحصیل فریدآباد میں امن و سکون کی بگڑتی فضا کے خلاف عوام کا غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سابق اٹارنی میر ثناء اللّٰہ خان کھوسہ کی قیادت میں عوام نے تھانہ ملک محمد علی شہید کے سامنے احتجاجی دھرنا دے کر انتظامیہ کی خاموشی پر سخت ردِعمل ظاہر کیا اس دھرنے میں نجیب اللّٰہ خان کھوسہ، حبیب اللّٰہ خان کھوسہ اور حفیظ اللّٰہ خان کھوسہ سمیت متعدد برادری عمائدین بھی شریک ہوئے دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ چوکی نور واہ بند ہونے کے باعث سندھ بارڈر سے دراندازی اور آزادانہ نقل و حرکت نے فریدآباد کی امن و امان کی صورتحال کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اٹارنی میر ثناء اللّٰہ خان کھوسہ نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں سے فریدآباد بدامنی کی لپیٹ میں ہے پولیس کی گرفت انتہائی کمزور ہو چکی ہے، جس کے باعث ڈکیتیوں کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ متعدد وارداتیں پیش آئیں مگر پولیس تاحال کسی بھی واقعے پر مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے
انہوں نے حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات فریدآباد کے گاؤں سے دلدار علی چانڈیو کی موٹر سائیکل چوری کر کے ملزمان فرار ہوگئے، جس پر مقامی افراد مزید مشتعل ہوگئے اور دھرنا دینے پر مجبور ہوئے فریدآباد کے مظاہرین کا کہنا ہے کہ امن ان کا بنیادی حق ہے اور وہ اپنی آواز حکامِ بالا تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں
انہوں نے وزیر اعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی، آئی جی بلوچستان، ڈی آئی جی نصیرآباد اور صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لے کر فریدآباد میں امن و امان کی فضا بحال کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا
Load/Hide Comments

