شہید ولید جان صالح بلوچ کے چہلم پر تعزیتی ریفرنس، سیاسی و سماجی رہنماؤں کی شرکت

پنجگور ( پنجگور پریس کلب ) نیشنل پارٹی اور بی ایس او بچار کے زیر اہتمام نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما رکن صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح کے چھوٹے بھائی اور نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما حاجی صالح بلوچ کے فرزند چیئرمین مالک صالح بلوچ کے بھائی شہید ولید جان صالح بلوچ کے چہلم کے موقعے پر انکی رہائش گاہ پر ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیاگیا جس میں نیشنل پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین ضلعی رہنماوں سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماوں بی این پی کے مرکزی جوائنٹ سکیرٹری میر نزیر احمد بلوچ جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ جماعت اسلامی کے حافظ صفی اللہ بلوچ مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر اشرف ساگر پیپلز پارٹی کے ڈویژنل جنرل سکیرٹری آغا شاہ حسین بلوچ آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین علاؤالدین ایڈوکیٹ علماء دین نے بڑی تعداد میں شرکت کی تعزیتی ریفرنس کے مہمان خاص و صوبائی صدر چیرمین اسلم بلوچ نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدرمیر شاوش بزنجو حاجی شوکت دشتی محمد جان دشتی حمل بلوچ واجہ بچار بلوچ عبد الصمد رند محمود رند عبداللہ لاشاری سابق صوبائی صدر اور بلوچستان اسمبلی میں نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ بلوچستان وحدت کے جنرل سکریٹری چنگیز حئی بی ایس او پجار کے مرکزی چیرمین بوہیر صالح حاجی صالح محمد بلوچ نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی ایوب دہواری میر نزیر احمد بلوچ اشرف ساگر حاجی اکبر بلوچ حافظ محمد اعظم بلوچ حافظ صفی اللہ بلوچ پنجگور پریس کلب کے سابق صدر عمر ماجد ملا فرھاد بلوچ کفایت اللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تعزیتی ریفرنس میں سیاست امن اور جمہوریت کا پیغام عام کررہے ہیں شہید ولید صالح بلوچ کی شہادت بزدلانہ فعل ہے ایک ایسے موقعے پر اسے شہید کیاگیا جہاں اسکے گھر میں شادی کی شادیانے بجنے والے تھے مگر افسوس اس خوشی کو ماتم میں بدل دیاگیا ولید صالح بلوچ کی شہادت دشمنوں کی پسپائی ہے اور اسکے جنازے کے بوجھ کو وہ سہہ نہیں سکیں گے ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم وطن سے محبت کرتے ہیں اور حق کی بات کرتے ہیں جو طاقت وروں کو قابل قبول نہیں ہے گھروں میں گھس کر ہمارے نوجوانوں کو شہید کرنے کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا کہ ہم شکست کھانے والے نہیں ہمارے اسلاپ نے کھبی اپنے اصول نہیں چھوڑے بنگالی جب ظلم وجبر سے تنگ آگئے تھے تو منعظم ہوئے بلوچستان میں سیاسی کارکن غیر محفوظ ہے انکو نشانہ بنایا جاتا ہے امن قابلی گاڑیوں کو پکڑنے لوگوں کو بے روزگار کرنے اور لوگوں کے ہاتھوں بندوق دینے سے نہیں آسکتا بلوچ اس طرح کے پالیسیوں سے مرعوب نہیں ہونگے بلوچستان بدترین دور میں داخل ہے پاکستان بھی قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا ہے قرضے امن کی بحالی نام پر خرچ ہورہے مگر نتیجہ صفر ہے بلوچستان پی ایس ڈی پی بھی امن کے نام خرچ ہورہا ہے پھر بھی 6 بجے کے بعد صوبے میں کرفیو لگتا ہے ایک علاقے کے لوگ دوسرے علاقوں کو نہیں جاسکتے شاہراہوں پر عوام کو خوار کرنا معمول بن گیا ہے بڑے کمیرے کس غرض لگے ہیں جو قاتل کو تو پکڑتے نہیں ہیں ولید کے قاتل بڑے طاقت ور کیوں نہ ہوں انکو ضرور بے نقاب کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ اگر ہم ولید کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے متحد نہ ہوئے تو اس سے بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ہم اس فلسفہ کے خلاف ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو ہم سے چھینا جاتا ہے ولید صالح ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا جو شرافت اور خدمت کی پیکر ہے یہ غم تنہا حاجی صالح اور اسکی فیملی کا نہیں ہے بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہر اس پرامن اور شرافت کی زندگی گزارنے والوں کا مشترکہ غم ہے اسٹیٹ کی ایک زمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان ومال کا تحفظ کرے مگر بلوچستان کے کونے کونے سے لاشیں مل رہی ہیں ریاستی اداروں کی زمہ داری ہے کہ وہ قاتلوں کا سراغ لگائے اتحادواتفاق کے زریعے ہم قوم کے ساحل وسائل اور جان ومال کا تحفظ کرسکتے ہیں شہید جسمانی طور پر ہم سے جدا ضرور ہوتے ہیں مگر وہ دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں لاشوں کا گرنا ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے لاشیں اٹھااٹھاکر تھک چکے ہیں بلوچ مشکل دور سے گزررہا ہے ایک عام بلوچ کی زندگی بہت مشکل ہوگیا ہے پرامن سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی سوچ ترک کی جائے حقوق کی ڈیمانڈ کرنا کوئی غیر آئینی بات نہیں ہے بلوچستان میں ٹپہ مافیا کو مسلط کیاگیا ہے ادارے بالکل بے بس نظر آرہے ہیں ڈی سی کا رول ختم ہوچکا ہے دوسرے ادارے بھی مفلوج بنادئیے گئے ہیں ولید بلوچ کی شہادت کا واقعہ ایک عام سا واقعہ نہیں ہے یہ اس خدمت کے خلاف اقدام ہے جو وطن سے محبت اور عوام کی خدمت کرنا چاہ…

اپنا تبصرہ بھیجیں