کوئٹہ(این این آئی)ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے کہا ہے کہ افغان روٹ کی بندش کے بعد متبادل راستوں کی تلاش میں تاخیر نہ کی جائے تاکہ کروڑوں ڈالرز کے آرڈرز ضائع نہ ہوں انہوں نے متبادل راستوں سے تجارت کیلئے بینکوں کو سہولیات کی بروقت فراہمی کے لئے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں مختلف کاروباری شخصیات سے بات چیت کرتے ہوئے حاجی محمد ایوب مریانی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بگڑتے تعلقات اور افغان روٹ کی بندش کے بعد بین الاقوامی تجارت کیلئے متبادل راستوں کی جنگی بنیادوں پر تلاش وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ اس کے ذریعے کروڑوں ڈالرز کے آرڈرز ضائع ہونے کے خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وفاقی وزارت تجارت،اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تاجروں کے مابین متعدد اجلاسوں کا انعقاد خوش آئند ہے بلکہ ان اجلاسوں میں بردار ہمسائیہ اسلامی ملک ایران اور دیگر روٹس اختیار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ہم چاہتے ہے کہ بینکس متبادل روٹ پر تجارت کے لئے سہولیات کی فراہمی بابت اقدامات کریں کیونکہ بینکنگ کی سہولیات کے بغیر دوطرفہ تجارت کو پروان چڑھانا اور اس کا استحکام ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں تاخیر تجارت کیلئے مزید نقصان دہ ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آئندہ ہفتے میں ایک اجلاس کا انعقاد اور اس میں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے بزنس کمیونٹی کی ملاقات بھی متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد کا ذریعہ معاش بارڈر اور بارٹر ٹریڈ سے وابستہ ہے اور گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے افغانستان کے ساتھ بگڑتے تعلقات اور افغان روٹ کی بندش سے ان لوگوں کی روزگار پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے ہم چاہتے ہیں کہ ملک اور صوبے میں قانونی تجارت کو فروغ ملے اور لوگوں کو باعزت روزگار میسر آ سکے انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان ملک اور صوبے میں قانونی تجارت کے فروغ کیلئے ہر ممکن اقدامات اور کاوشوں کو جاری و ساری رکھے گا اور اس سلسلے میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

