کوئٹہ(این این آئی)ژوب سے تعلق رکھنے والے قبیلہ عبداللہ زئی کے رہنماوں محمدسلیم،حاجی ظاہر شاہ، اشرف، عبدالواحد کاکڑ ایڈووکیٹ، صاحب جان، جہانگیر شاہ اور روحی داد نے کہا ہے کہ ژوب بائی پاس کی تعمیر کیلئے10ارب روپے کی خطیر رقم ہونی کے باوجود این ایچ اے اور ٹھیکیدار نے تاحال کام شروع نہیں کیا ہے جس سے قبیلہ عبداللہ زئی میں تشویش پائی جاتی ہے اگر فوری طور پر ژوب بائی پاس کی تعمیر اور سبزی منڈی کو فنگشنل کرنے کیلئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو عبداللہ زئی قبیلہ اپنی 100ایکڑاراضی واپس لینے اوراحتجاج کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ قبیلہ عبداللہ زئی نے ژوب شہر کی سہولت کیلئے حکومت کو 100ایکڑ اراضی بلاوضہ دی اور نیسپاک نے کئی مہنیوں کے بعد بس ٹرمینل،سبزی منڈی،ٹرک اڈہ کی تعمیر کیلئے 3ارب 33کروڑ کا تخمینہ لگایا سابق حکومت نے اس منصوبے کیلئے 3مراحل میں مجوزہ فنڈز فراہم کرنے کا اعلان کیا پہلے مرحلے میں فیز ون کیلئے 1ارب 11کروڑ روپے، پھرآنے والے دو سالوں میں فیز 2اور فیز 3کیلئے فنڈز فراہم کئے جائیں گے لیکن بدقسمتی سے 2015سے ابتک فیز ون بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیسپاک کے ڈیزائن کے مطابق متعلقہ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس اسٹیشن کا قیام منصوبے کا حصہ تھا جو بھی تاحال مکمل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ این ایچ اے نے بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم بائی پاس بنانے کا منصوبہ بنایا اس لئے ٹینڈر بھی 2جنوری2024ء کو کیا گیا جس کیلئے 1000ملین کی خطیر رقم بھی مختص کی گئی لیکن دو سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود تاحال بائی پاس کی تعمیرکام بھی شروع نہیں ہوا ہے علاقے کے عوام کے بار بار احتجاج پر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ٹھیکیدار نے تحریری یقین دہانی کرائی کہ بائی پاس کی تعمیر کا کام فوری شروع کیا جائے گالیکن ابھی تک کام شروع نہیں ہوا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ژوب بائی پاس کی تعمیر،سبزمنڈی کوفوری طور رپ فنگشنل بنایا جائے بصورت دیگر قبیلہ عبداللہ زئی اپنی زمین واپس لینے اور احتجاج کاحق محفوظ رکھتار ہے۔

