خضدار(این این آئی)قاضی جھالاوانII کی عدالت نے 41 سال پرانے انتہائی اہم اور حساس وراثتی تنازعہ کا فیصلہ سنا دیا جس میں ایڈووکیٹ فوزیہ مینگل نے نہ صرف اپنی نانی کا جائز وراثتی حصہ واپس لیا بلکہ ایک طویل ناانصافی کے باب کو ہمیشہ کے لیئے بند کروا دیا۔یہ کیس خضدار شہر کے سب سے قیمتی علاقوں میں پھیلی ہوئی اراضیات پر تھا جو رہائشی اور کمرشل دونوں اعتبار سے شہر کا دل کہلاتی ہیں۔ سید غلام سرور شاہ مرحوم کے نام سے کیس دائر تھا اس کیس کی سماعت آخری 6 سال سے قاضی جھالاوانII کی عدالت میں جاری تھی۔محمد نواز سمیت 23 افراد پر مشتمل فریق نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ جائیداد ان کے والد کی ہے جو 1984ء میں وفات پا گئے تھے اور اس میں ان کے والد کے شجر نصب کے علاوہ کوئی حصہ دار نہیں ہے۔ تاہم دوسری طرف ایڈووکیٹ فوزیہ مینگل نے خود بطور مدعیہ اور وکیل مقدمہ لڑا۔ ان کا موقف تھا کہ اس جائیداد میں وہ اپنی نانی کی وراثت میں حصہ دار ہیں اور محمد نواز کے فریق کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں۔ انہوں نے عدالت میں یہ ثابت کیا کہ ارباب نواز مینگل اور ان کے فریق کے لوگ وراثت سے انہیں بے دخل کرکے برسوں سے نا انصافی مول لے رہے ہیں۔قاضی جھالاوان II نے 8 صفحات پر مشتمل مفصل فیصلے میں ارباب نواز مینگل سمیت تمام 23 مدعیان کا دعویٰ یکسر مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مقدمہ قانونِ حد بندی اور متعلقہ آرٹیکل کے تحت کئی عشروں کی تاخیر سے دائر کیا گیا، دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا، اور حدِ مدت کا بنیادی نکتہ ہی مدعیان کے خلاف ہو گیا، اس لیئے باقی تمام نکات پر بحث کی ضرورت ہی ختم ہو گئی۔ نتیجتاً پورا سوٹ خارج کر دیا گیا۔فیصلے کے فوراً بعد ایڈووکیٹ فوزیہ مینگل نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ الحمدللہ، 41 سال کی ناانصافی ختم ہوئی۔ قاضی جھالاوان II صاحب نے قانون کی حکمرانی قائم رکھتے ہوئے بالکل صاف، شفاف اور حق و انصاف پر مبنی فیصلہ دیا۔ یہ صرف میری ذاتی جیت نہیں بلکہ ان تمام بیٹیوں اور بہنوں کی جیت ہے جنہیں وراثت کے جائز حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ اب جبکہ عدالت کا حتمی فیصلہ آ چکا ہے، متعلقہ محکموں سے مطالبہ ہے کہ ہماری جائیداد فوری واگزار کرائی جائے، ارباب نواز مینگل و دیگر کا غیر قانونی قبضہ ختم کیا جائے اور جہاں تعمیراتی کام، دکانیں یا کوئی اور سرگرمی جاری ہے، وہ فوراً روک دی جائے۔ اگر اب بھی کوئی کام جاری رہا تو یہ کھلی توہینِ عدالت ہو گی اور ہم قانون کے مطابق کارروائی کروائیں گے۔اس تاریخی فیصلے پر شہر بھر میں ایڈووکیٹ فوزیہ مینگل کو مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور قانونی حلقوں میں بھی اس فیصلے کو قانون کی بالادستی کی شاندار مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

