نیشنل پارٹی کے ارکان اسمبلی اگر گچک آواران روڑ بناسکتے ہیں تو انٹرنیٹ،بجلی بحالی جیسے چھوٹے کام کیوں نہیں ہورہے،ترجمان بی این پی عوامی

پنجگور(این این آئی)بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے ضلعی ترجمان نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی کے ایم این اے اور ایم پی اے نے جن کروڑوں پر کریڈٹ لینے کی کوشش کی ہے انکی منظوریاں ساوتھ بلوچستان پیکج کے تحت سابق وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی حکومت کے دوران راجی راہشون میر اسداللہ بلوچ کی تجاویز پر ہوئی تھیں جبکہ کیڈٹ کالج ٹو سریکوران روڑ بھی سکریٹری علی اکبر بلوچ نے منظور کروایا تھا ترجمان نے کہا کہ چیدگی اور پنجگور آواران روڑ کی منظوریاں ایک ساتھ ہوئی تھیں نیشنل پارٹی نہ جانے کس دنیا میں رہتی ہے اسے اتنا تو معلوم ہونا چائیے کہ یہ منصوبے آج کے نہیں بلکہ سابق حکومت کے دور کے ہیں اور یہ وہ منصوبے ہیں جو نیشنل پارٹی کی سوچ سے کافی اونچی ہے اور اسکے وہم وگمان میں بھی نہیں تھے اور نہ ہی نیشنل پارٹی کی سوچ اسطرح عوام دوست ہے کہ وہ ترقیاتی کاموں پر فوکس کرے نیشنل پارٹی نے ہمیشہ دوسروں کے کاموں کا کریڈٹ لیا ہے بلکہ اسے دوسروں کی کریڈٹ چوری کرنے کی لت پڑچکی ہے خود تو کام کرتے نہیں جب کوئی دوسرا اجتماعی نوعیت کا کام کرتا ہے تو یہ کریڈٹ لینے کے لیے بھاگنا شروع ہوجاتے ہیں ترجمان نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ماضی میں بھی بی این پی عوامی کے کاموں کا کریڈٹ لیا تھا انکے اقتدار کے اب دو سال پورے ہونے والے ہیں پنجگور میں کوئی ایک بھی اجتماعی منصوبہ انکے کھاتے میں درج نہیں ہے جو لوکل روڑ نمائندوں کے گھروں تک جاتی ہیں وہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہے گچک آواران روڑ تو بڑی بات ہے اسکا سہارا لیکر نیشنل پارٹی نے جو تاریخی جھوٹ کا سہارا لیا ہے اس پر تبصرہ کرنا بھی ہر کوئی فضول سمجھ رہا ہے عوام کو پتہ ہے کہ نیشنل پارٹی جنکی ایک ٹانگ حکومت میں اور دوسری ٹانگ اپوزیشن میں ہے اب تک کارکردگیاں محض زاتی مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں نیشنل پارٹی کے ایم این اے اگر اتنے پاور فل ہیں کہ وہ گچک آواران روڑ بناسکتے ہیں تو اس سے انٹرنیٹ اور بجلی کی بحالی جیسے چھوٹے کام کیوں نہیں ہورہے عوام پھر بھی یہ سوال پوچھنے میں برحق ہوگا کہ اتنا دم خم ہے تو بجلی کو ٹھیک کرکے 3 جی کو بحال کرواکر دکھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں