ڈیجیٹل میڈیاپرانتہا پرستی، غلط خبروں کی تشہیر و روک تھام کے حوالے سے نوجوانوں کاکردار اہم ہے، مقررین

کوئٹہ(این این آئی) محکمہ اطلاعات و نشریات، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انسداد انتہا پرستی اور غلط خبروں کی تشہیر وروک تھام کے حوالے سے نوجوانوں اور ڈیجیٹل میڈیا کی کردار کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں صوبہ بلوچستان کے مختلف یونیورسٹیوں کے تجربہ کار پروفیسرزببرک نیاز،عبدالرحیم ناصراور سینئر صحافی ایوب ترین نے اپنے خطاب میں غلط خبروں کی روک تھام اور انسداد انتہا پرستی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پرستی ایک ناسور کی طرح ہمارے معاشرے میں سرائیت کر گئی ہے۔ اور اس ضمن میں سوشل میڈیا پر خبروں کی غلط تشہیر نے اس برائی کو مزید تقویت دی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اس حوالے سے اپنے نسل نوع کو بھر پور آگاہی فراہم کرنا ہے، چاہے وہ ہماری پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہو یا الیکٹرونک، ہمارا تعلیمی نصاب ہو یا مختلف سیمینارو تقریب کے ذریعے، تاکہ آنے والے وقتوں میں وہ انتہا پرستی اور غلط خبروں کی روک تھام کے حوالے سے ذہنی طور ہو تیار ہو۔ سوشل میڈیا دن بدن ترقی کی جانب گامزن ہے۔ معاشرے کا تقریباً ہرفرد اس سے بلواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا پر فیک نیوز کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ غلط خبروں کی روک تھام اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب ہم خبروں کی حقیقت اور ان کے ذرائعکے حوالے سے چانچ پڑتال کریں گے کہ وہ جو نیوز ہم شیئر کر رہے ہیں آیاوہ سچ ہے یا غلط۔ اگر ہم اس سلسلے میں غوروفکر کریں گے تو غلط خبروں کی روک تھام کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈس انفارمیشن سے معاشرے میں بہت سے نقصاندہ معاملات وقوع پزیر اور اس سے معاشرے کے تمام فرد متاثر ہورہے ہیں۔ اگر ہم اس معاشرتی برائی پر بروقت کنٹرول کریں گے تو اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اور اس کے لئے ہمارے نوجوانوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ قبل ازیں پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر خالد رانجھا نے شرکاء کو سیمینار کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس موقع پر بلوچستان کے مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء وطالبات نے بڑی تعداد میں موجود تھے۔بعد ازاں پروجیکٹ ڈائریکٹر خالد رانجھا نے شرکاء میں شیلڈاور اسناد تقسیم کیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں