مکران کی نوجوان نسل نے بلوچی کے بعد انگریزی کو اظہارِ خیال کا ذریعہ بنانا شروع کر دیا

کوئٹہ (رپورٹر)گزشتہ ایک ماہ میں مکران سے دو نوجوان لڑکیوں کے انگریزی ناول سامنے آئے ہیں۔ اسی دوران ایک انگریزی کتاب ایس بی کے ویمن یونیورسٹی کوئٹہ کی ایک طالبہ کی بھی سامنے آئی۔

یوں لگتا ہے مکران کی نئی نسل نے، اپنی مادری قومی زبان بلوچی کے بعد، عالمی مارکیٹ کی زبان انگریزی کو اپنا ذریعہ اظہار بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

بہ ظاہر اور فی الوقت یہ ایک معمولی سی اور عام سی بات لگتی ہے۔ مستقبل میں یہ بہت بڑا اثر ڈالے گی۔

لکھ لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں