کمشنر کوئٹہ سے صدر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی قیادت میں وفد کی ملاقات

کوئٹہ(این این آئی)کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ سے جمعرات کو مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ کی قیادت میں تاجروں کے ایک وفد نے انکے دفتر میں ملاقات کی وفد میں میر یایسن مینگل، عمران ترین، سعد اللہ اچکزئی،ظفر کاکڑ، سیدآفتاب آغا، نعمت آغا، کلیم ترین اوردیگر شامل تھے۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے وفد نے کمشنر کو بتایا کہ جناح روڈ،قندھاری بازار،لیاقت آغا،عبدالستارروڈکو نوپارکنگ زون قرار دینے سے ان علاقوں میں واقع دکاندارشدید مشکلات کا شکار ہیں اور پارکنگ نہ ہونے کی وجہ سے گاہک خریداری کیلئے نہیں آتے جس کی وجہ سے دکانوں کا کرایہ دینا بھی مشکل ہوچکا ہے اور تاجرنان شبینہ کے محتاج ہوتے جارہے ہیں۔وفد نے بتایا کہ اسوقت کوئٹہ شہر میں 700سے زائد میونسپل کارپوریشن کی دکانیں ہیں جہاں تاجر اپنا کاروبار کرتے ہیں لیکن میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے اچانک دکانوں کے کرایوں میں کئی ہزار گنااضافہ کردیا جو کرایہ ادا کرنا تاجروں کے بس کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تاجران پہلے اپنا کرایہ میونسپل کارپوریشن کو بروقت ادا کرتے تھے اب کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ ہونے سے وہ کرایہ دینے سے قاصر ہیں۔مرکزی تاجران بلوچستان کے وفد نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب خان کاکڑ سے اپیل کی کہ تاجروں کی مشکلات کو مدنظررکھتے ہوئے کوئٹہ شہر کی جن سڑکوں کو نو پارکنگ ایریا قراردیاگیاہے اسے ختم اور صفاکوئٹہ کی جانب سے تاجروں سے صفائی کے نام پر پیسے لینے کا فیصلہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے دکانوں کے کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ کو واپس لیا جائے کرایوں میں مناسب اضافے کیا جائے اورزرغون روڈاورائیرپورٹ روڈ پر قائم ایف سی کی چیک پوسٹوں کو فوری ختم کیا جائے کیونکہ چیک پوسٹوں کے قیام سے ائیر پورٹ روڈ اور زرغون روڈپرسارا دن ٹریفک جام رہتی ہے جس سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ نے کہاکہ تاجر ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں انکے مسائل حل کرنے کیلئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ ہرممکن تعاو ن اوراقدامات کریگی اورتاجروں نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے انہیں حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہرکی اہم سڑکوں کو نو پارکنگ قرار دینے سے متعلق فیصلے پر بھی نظرثانی کریں گے اور کوشش کریں گے اورتاجروں کے ساتھ ملکر کوئٹہ شہر کی بہتری اورصفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے سے متعلق فیصلے کئے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں