بلوچستان شدید ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا،کم بارشوں کے باعث متعدد اضلاع میں پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں،مشیر ماحولیات نسیم الرحمن

کوئٹہ(این این آئی)صوبائی مشیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل سے مختلف سماجی تنظیموں، ماہرینِ ماحولیات اور شہری نمائندوں پر مشتمل وفود نے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی ماحولیاتی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر صوبائی مشیر نے بتایا کہ بلوچستان اس وقت شدید ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ کم بارشوں کے باعث متعدد اضلاع میں پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ کوئٹہ میں زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے، جس پر حکومت نے فوری، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ماحول دوست پالیسی سازی کے لیے کلائمٹ چینج پالیسی 2024 نافذ کر دی گئی ہے جس کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ پالیسی نہ صرف موجودہ مسائل سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ماحول کی بنیاد بھی فراہم کرے گی۔ ملاقات کے دوران نسیم الرحمن ملاخیل نے حکومت کے حالیہ ماحولیاتی اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مرحلہ وار پابندی نافذ کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فضلے میں کمی اور ماحول کو آلودگی سے بچانا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اسپتالوں کے فضلات کے محفوظ اور جدید طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے لیے بنائے گئے نئے انتظاماتی نظام سے بھی وفود کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے اداروں میں میڈیکل ویسٹ کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کے لیے انسینیریشن یونٹس کو فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ ماحول اور انسانی صحت دونوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ صوبائی مشیر نے یہ بھی بتایا کہ شہری علاقوں میں صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں فضلے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ اور ڈمپنگ سائٹس کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہمات جاری ہیں اور موجود پودوں و درختوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نسیم الرحمن ملاخیل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت تنہا موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتی اور اس جدوجہد میں سماجی تنظیموں اور شہریوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ روزمرہ زندگی میں ماحول دوست عادات اپنائیں، جیسے پلاسٹک بیگز کا استعمال کم کرنا، پانی کے ضیاع سے بچنا، شجرکاری میں حصہ لینا اور دھوئیں و زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور عوام مل کر قدم اٹھائیں تو بلوچستان کو ماحولیاتی بگاڑ اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے، اس لیے مستقبل کی حفاظت کے لیے مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں