خشک و بے مہر چٹانوں کا تراشیدہ حصار
تپش مہر سے جھلسی ہوئ سنگین دیوار
جھریاں چہرہ پر ہول پہ ادواروں کی
گھاؤ رستے ہوۓ شمشیر سے قہاروں کی
پیر فرتوت کہن سالہ زابل کی طرح
بھوئیں سکڑی ہوئ ابھرے ہوۓ ماتھے پہ تناؤ
جیسے کوہزاد سے رستم کے بگڑ جانے پر
اس نے زابل کے بلوچوں پر نظر ڈالی تھی!
اس طرح آج بھی بولان کی گھاٹی ہر دم
اسی مشتاق مگر تند نظر سے ہم کو
دیکھتی ہے کسی کوہزاد سے ٹکرانے کو
میر گل خان نصیر

