پنجگور محکمہ صحت کی عارضی بھرتیاں غریب نوجوانوں کیلئے سنگین ناانصافی قرار

پنجگور (رپورٹر) محکمہ صحت پنجگور میں ایک سالہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کا موجودہ نظام مقامی غریب اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ سنگین ناانصافی کا سبب بن رہا ہے۔ 38 عارضی ملازمین نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہر چھ ماہ بعد انہیں نوکری سے نکال کر دوبارہ نئی بھرتیاں کرنا نوجوانوں کے مستقبل سے کھلا مذاق ہے، جس سے درجنوں اہل نوجوان زائد العمر ہو کر ہمیشہ کے لیے بے روزگاری کا شکار ہونے لگے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ صحت پنجگور میں تقریباً 78 مستقل آسامیاں خالی ہونے کے باوجود صرف 38 نوجوانوں کو بار بار عارضی بنیادوں پر رکھ کر غیر یقینی صورتحال پیدا کی جاتی ہے جس سے ادارہ فعال ہونے کے بجائے مسلسل غیر فعال ہوتا جا رہا ہے۔

ملازمین نے مزید کہا کہ یہ سلسلہ نہ صرف غریب گھرانوں کی معاشی بنیادوں کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پوری ضلع کی صحت خدمات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت بلوچستان، سیکریٹری صحت اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس غیر منصفانہ پالیسی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے عارضی ملازمین کو مستقل بنیادوں پر روزگار دیا جائے اور خالی آسامیوں کو پر کر کے ایک مضبوط اور پائیدار نظام قائم کیا جائے۔

بیان کے آخر میں 38 متاثرہ ملازمین نے کہا کہ یہ ان کی “دل دہلانے والی فریاد” ہے جسے سننا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں