ہر قوم کی اپنی ثقافت اور اپنی روایات ہیں مگر جب بات پاکستان کی ہو تو تمام آپس میں ایک ہو کر صرف پاکستانی بن جاتے ہیں میراصغرخان مری‎

سبی(اللہ داد)ملک بھر کی طرح بلوچستان کے تاریخی٬قدیمی وثقافتی شہر سبی میں بھی سندھی کلچر ڈے کے حوالے سے ایک ریلی نکالی گئی۔ریلی کی قیادت جاموٹ یوتھ بلوچستان ضلع سبی کے صدر وڈیرہ صلاح الدین چشتی نے کی۔ریلی کے مہمان خاص سبی اتحاد کے روح رواں ہردلعزیذ شخصیت قبائلئ وسیاسی رہنماء میراصغرخان مری ہوۓریلی سبی اسٹیشن سے شروع ہو کر مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی سبی پریس کلب پہنچی جہاں پر سندھی نوجوانان نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا اور سندھی گیت بھی گائے، ریلی میں نوجوان بزرگ ودیگر شہریوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی ریلی میں شریک شرکاء نے رنگوں سے بھری ہوئی اجرک اور خوبصورت ٹوپی پہن رکھے تھے ریلی میں شریک دیگر اقوام سے آے ہوے معززین کو سندھی روایات کے مطابق اجرک کا تحفہ پیش کیاگیا ثقافتی ریلی میں سبی کے بلوچ پشتون اردو پنجابی بولنے والے اور مذہبی جماعتوں کے رھنماوں نے شرکت کی جن میں ملک قائم دہپال٬ملک ظہور مرغزانی٬میراسلم گشکوری٬ جنرل کونسلر شبیر احمد سومرو اسکے علاوہ سبی کے سیاسی اور قبائلی شخصیات کی بڑی تعداد میں شریک ھوۓ مقررین نے ریلی سے خطاب کرتے ہوٸے کہا کہ سندھی جاموٹ ثقافت ہزاروں سالوں پر محیط کلچر رہی ہے۔ پاکستان کی تمام قومیں ایک گلدستے کی مانند ہے تمام قومیں پھولوں کی طرح آپس میں ایک ہیں۔ ہر قوم کی اپنی ثقافت اور اپنی روایات ہیں مگر جب بات پاکستان کی ہو تو تمام آپس میں ایک ہو کر صرف پاکستانی بن جاتے ہیں، سندھی اقوام کی مہمان نوازی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا گیا ہے۔ سندھی کلچر میں رواداری برداشت، تحمل مزاجی، میانہ روی پر عمل کرتے ہوئے اجتماعیت کو فروغ دینے کا درس دیا ہے۔ آج کا یہ دن ہمیں ان تمام مثبت اصولوں پر پوری طرح سے عمل پیرا ہونے کا درس دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں