لورالائی(میاں محمد عامر بشیر آرائیں) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی لورالائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمانڈر بی سی لورالائی زون کی جانب سے مبینہ طور پر ایک دن میں 47، دوسرے دن میں 56 اور تیسرے دن 15 بی سی اہلکاروں کے تبادلے باقاعدہ قانونی طریقہ کار یعنی او ایس آئی (OSI) کے بجائے غیر مجاز ذرائع کے ذریعے کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق ہر اہلکار سے تقریباً 35 ہزار روپے لیے گئے، جس سے مجموعی طور پر تقریباً 41 لاکھ 30 ہزار روپے کی رقم بنتی ہے، جو کہ ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک معاملہ ہے۔یہ عمل نہ صرف محکمہ جاتی قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ اس سے بی سی محکمے کی ساکھ اور اہلکاروں کے حقوق پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس حساس معاملے پر متعلقہ حکامِ بالا کی خاموشی عوامی سطح پر سوالات کو جنم دے رہی ہے، جو کسی بھی طور مناسب نہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پورے معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے، تمام مبینہ مالی لین دین اور تبادلوں کا مکمل ریکارڈ محکمے کے بالا افسران، بی سی اہلکاروں اور عوام کے سامنے لایا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ محکمے پر بی سی اہلکاروں اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے، اگر زونل کمانڈر بی سی لورالائی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو پشتونخوا نیپ فوری طور پر احتجاج کا اعلان کر دیا جائے گا

