بلوچستان میں بارشیں 42 فیصد کم، کوئٹہ سمیت سات اضلاع میں خشک سالی شدت اختیار کرنے لگی

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران معمول سے 41.9 فیصد کم بارش ریکارڈ، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سات اضلاع میں خشک سالی کے خطرات میں اضافہ ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں معمول سے 41.9 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے تین ماہ کے دوران بلوچستان میں صرف 8.6 ملی میٹر بارش ہوئی، جو معمول کے 14.8 ملی میٹر سے نمایاں طور پر کم ہے، جبکہ صوبے میں درجہ حرارت بھی 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ اوسط سے زیادہ رہا۔محکمہ موسمیات کی خشک سالی ایڈوائزری (پری الرٹ) رپورٹ کے مطابق مئی سے نومبر 2025 کے دوران مغربی اور جنوب مغربی بلوچستان میں بارشوں کی کمی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ مسلسل خشک دنوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو خشک سالی کی شدت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران متعلقہ علاقوں میں بارشیں معمول سے کم اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جس سے کوئٹہ،چاغی، گوادر، کیچ، خاران، مستونگ، نوشکی، پشین، پنجگور، قلعہ عبداللہ، اور واشک میں خشک سالی کی صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔تاہم محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں بلوچستان کے کچھ حصوں پر بارش کا سسٹم اثر انداز ہونے کا امکان ہے، جو جزوی ریلیف فراہم کر سکتا ہے اور خشک سالی کی شدت میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔حکام نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات پر زور دیتے ہوئے سفارش کی ہے کہ چارہ اور پانی کے ٹینکوں کی پیشگی فراہمی، موبائل ہیلتھ اور ویٹرنری ٹیموں کی تعیناتی، ایس ایم ایس اور مساجد کے ذریعے خبردار کرنے کا نظام، چھوٹے کسانوں کے لیے سبسڈی کے لیے این جی اوز سے رابطہ، اور متاثرہ یونین کونسلوں میں پانی ذخیرہ کرنے اور مؤثر آبپاشی ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں