تربت: نیشنل پارٹی کی علمی نشست میں بلوچ سیاسی جماعتوں کا تاریخی جائزہ پیش

کوئٹہ(رپورٹر) نیشنل پارٹی کیچ کے زیرِ اہتمام ایک نہایت اہم اور فکری اعتبار سے گہرا سیاسی و علمی ڈسکشن پروگرام ضلعی سیکریٹریٹ تربت میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام کی صدارت ضلعی نائب صدر حاجی شوکت دشتی نے کی، جبکہ نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے قائدین، سینئر رہنماؤں، دانشوروں اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اس علمی نشست کی سنجیدگی اور اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

اس ڈسکشن کا مرکزی موضوع “بلوچ سیاسی جماعتوں کا تاریخی جائزہ“ تھا۔ایک ایسا عنوان جو بلوچ قوم کی سیاسی تاریخ، فکری ارتقاء اور اجتماعی جدوجہد کا خلاصہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی مناسبت سے قائد نیشنل پارٹی جناب ڈاکٹر مالک بلوچ نے نہایت جامع، معتبر، تاریخی شواہد پر مبنی اور گہرے تجزیاتی انداز میں اپنی گفتگو پیش کی، جسے شرکاء نے خصوصی توجہ سے سنا۔

ڈاکٹر مالک بلوچ نے بلوچ سیاست کی بنیاد رکھنے والی ابتدائی تحریکوں اور جماعتوں کا تسلسل کے ساتھ جائزہ لیا۔ انہوں نے بلوچ لیگ، انجمن اتحادِ بلوچاں، قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی، اُستمان گل، نیپ، پاکستان نیشنل پارٹی، بی این ایم، پی وائی ایم سمیت متعدد سیاسی پلیٹ فارمز کی تشکیل، نظریاتی بنیاد، تنظیمی رویّے، اور تاریخی جدوجہد کا تفصیلی احاطہ کیا۔ ان جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں کے کردار اور اُن کی سیاسی کاوشوں پر بھی سنجیدہ روشنی ڈالی گئی۔

ڈاکٹر مالک بلوچ نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچ سیاست کا سفر محض جماعتوں کا تسلسل نہیں بلکہ ایک فکری اور عوامی تحریک کا تسلسل ہے، جس میں بلوچ اور پشتون اکابرین کی مشترکہ جدوجہد نے تاریخ کا دھارا متعین کیا۔ انہوں نے خطے کی قوم پرستانہ سیاست کے ارتقاء اور اس کے مختلف ادوار کی پیچیدگیوں کو بھی بصیرت افروز انداز میں بیان کیا۔

ڈسکشن کا ایک نہایت اہم حصہ بلوچ قومی سیاست میں طلبہ تنظیموں کے کردار سے متعلق تھا۔ اس ضمن میں انہوں نے ورنا وانندہ گل، مکران اسٹوڈنٹس فیڈریشن، اور بی ایس او کی فکری بنیاد، تنظیمی ڈھانچے، قائدانہ صلاحیتوں اور تاریخ میں ادا کیے گئے کلیدی کردار کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ طلبہ تحریکوں کو بلوچ قومی شعور کا ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان تنظیموں نے ہر دور میں سیاسی جدوجہد کو فکری بنیاد فراہم کی۔

پروگرام کا اختتام سوال و جواب اور کھلے مکالمے کے سیشن پر ہوا، جس میں شرکاء نے گہری دلچسپی اور سنجیدہ فکر کا مظاہرہ کیا۔ شرکاء کی جانب سے کیے گئے سوالات سے یہ بات واضح ہوئی کہ یہ ڈسکشن نہ صرف معلوماتی تھا بلکہ بلوچ سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لئے ایک معتبر علمی حوالہ بھی ثابت ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں