اسلام آباد (این این آئی) امریکی معالجین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان سے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر سینیٹر رانا محمود الحسن، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، سینیٹر جان محمد بولیدی اور سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ملاقات کے دوران قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے وفد کے دورے کو پاک امریکا دوستی، باہمی احترام اور تعاون کی روشن مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ ایک ایسا میدان ہے جو عالمی تعاون کا متقاضی ہے اور طبی معلومات و تجربات کا تبادلہ معاشروں کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔سیدال خان نے کہا کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے اور امریکی معالجین کی خدمات اس سلسلے میں نہایت معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے وفد کو بلوچستان میں صحت اور تعلیم کے منصوبوں میں کردار ادا کرنے کی ترغیب بھی دی۔ملاقات میں اوورسیز پاکستانی ڈاکٹروں کے کردار کو سراہتے ہوئے قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہر شعبے میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں، جبکہ پاک—امریکا طبی تعاون اب تک ہزاروں انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو چکا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی ڈاکٹر امریکی تجربات سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں، جبکہ پاکستان بھی اپنی طبی خدمات اور تجربات کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ عوام کی صحت و سلامتی سے متعلق پالیسیوں کا بنیادی مرکز ہے اور عالمی صحت کے چیلنجز صرف مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔سیدال خان نے کہا کہ وبائیں کسی سرحد کی پابند نہیں ہوتیں، اس لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان طبی تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور ایسے دورے مستقبل میں باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولیں گے۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے امریکی وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان طبی، تعلیمی اور انسانی فلاح و بہبود کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔

