کوئٹہ(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان علی احمد لانگو نے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مادری زبان کسی بھی قوم کی اصل شناخت، تاریخی شعور اور تہذیبی تسلسل کی ضامن ہوتی ہے۔ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ اجتماعی فکر، ثقافتی روایات اور سماجی اقدار کی بنیاد ہے۔ جب زبانوں کو پسِ پشت ڈالا جاتا ہے تو درحقیقت قوموں کی پہچان اور وجود کو کمزور کیا جاتا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی پالیسیوں کے نتائج ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں مادری زبانوں کو تعلیمی نظام کا باقاعدہ حصہ بنانے کے لیے مؤثر قانون سازی کی، نصابی خاکے ترتیب دیے اور درسی کتب کی تیاری کا آغاز کیا تاکہ نئی نسل کو اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ سے جوڑا جا سکے۔ تاہم بعد ازاں اس عمل کا تسلسل برقرار نہ رکھنا ایک افسوسناک اقدام تھا، جس سے زبانوں کے فروغ کی رفتار متاثر ہوئی۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ سائنسی و تعلیمی تحقیقات اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ ابتدائی تعلیم اگر مادری زبان میں دی جائے تو بچوں کی ذہنی استعداد، فکری صلاحیت اور تخلیقی سوچ میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ مادری زبان میں تعلیم نہ صرف سیکھنے کے عمل کو مؤثر بناتی ہے بلکہ طلبہ میں خود اعتمادی اور اظہار کی قوت بھی پیدا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے بلوچی، براہوئی اور پشتو زبانوں کے فروغ کے لیے متعلقہ اکیڈمیوں کی گرانٹس میں خاطر خواہ اضافہ کیا تاکہ تحقیق، تصنیف و تالیف، اشاعت اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ زبانوں کی ترقی دراصل فکری اور ادبی سرمائے میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی کو بھی مضبوط بناتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک کثیرالقومی ریاست ہے جہاں مختلف قومیتوں کی اپنی تاریخی سرزمین، ثقافت، زبان اور وسائل موجود ہیں۔ ان حقائق کو تسلیم کرنا پائیدار استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قومیتوں کی زبانوں اور ثقافتوں کے تحفظ اور فروغ کو یقینی بنائے تاکہ ایک مضبوط، متوازن اور باوقار معاشرہ تشکیل پا سکے۔

