تربت (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے رہنما کہدا عزیز احمد دشتی نے پاکستان ایران بارڈر دشت نگور کپکپار اور مند سوراپ کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان سرحدات کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش کے باعث مقامی لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے، لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں، بچے اسکول نہیں جا پا رہے اور بیمار افراد کو ادویات میسر نہیں ہیں۔
یہ بارڈر مقامی لوگوں کے لیے نہ صرف روزگار بلکہ ضروری اشیائے خورونوش، ادویات اور ایندھن کا اہم ذریعہ ہیں۔ طویل بندش نے خطے کی غیر مستحکم معیشت کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
باڈر بند ہونے سے نہ صرف روزگار متاثر ہوئے ہیں بلکہ بیمار افراد کو بروقت ادویات اور علاج تک رسائی میں شدید رکاوٹیں آئی ہیں۔ نیز، سرحد کے دونوں اطراف خاندان بٹے ہوئے ہیں جن کی ملاقاتوں کا واحد ذریعہ بند ہو گیا ہے۔
اس مسئلے نے مقامی سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ رہنما نے اس اقدام کو مقامی آبادی کے خلاف ایک اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کی پامالی پر سوال اٹھایا ہے۔

