کوئٹہ (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے یک رکنی جماعت کے خودساختہ سربراہ اسداللہ سدوزئی کے الزامات کو گمراہ کن اور سیاسی بدحواسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکتا پارٹی کا اکلوتا رہبر ذاتی مفادات کے لیئے ایک پہیہ والے ساہیکل پہ سوار ہے یہ وہ شخص جو ہمیشہ ذاتی مفادات کیلئے سیاسی جماعتوں کو توڑتا رہا ہے اور آخری باری وزارت کے حصول و سینٹ کا ووٹ فروخت کرنے کے لیئے اپنے تانگہ پارٹی کو بھی توڑ کر یکتا پارٹی بنایا جو دو گلیوں تک محدود ہے جب بھی اسے وزارت نہیں ملی پارٹی توڑا ، 1997 میں اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیئے بزرگ سیاسی رہنما سردار عطا اللہ مینگل کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرکے جان جمالی کی حکومت میں وزارت لی ، مشرف دور حکومت میں نیب کے خوف سے ٹرک میں ایران بھاگ گیا پھر ڈکٹیٹر سے سازباز کرکے واپس آئے ، 2008 سے 2013تک ایسے دور میں وزیر رہا جب عید کے دن بلوچ نوجوانوں کے چار چار لاشیں گرتیں 2018کے بدنام زمانہ قدوسی سرکار میں جب ریکوڈک کا سودا ہوا موصوف وزارت کے مسند پہ تھا جو شخص ایک سیٹ کی خاطر اپنی پوری پارٹی کو چوراہے میں بیچ ڈالا ہو،جس نے سینٹ ووٹ بیچا وہ آج سیاسی اصولوں اور عوامی مفاد کی بات کر کے صرف درامہ بازی کررہا ہے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ مذکورہ شخص نے مفاد پرستی کی ہر حد پار کی، کبھی حکومتوں کی ناز برداری کی، کبھی اقتدار کیلئے اصولوں کا سودا کیا، کبھی وزارت کیلئے پارٹی بدلی اور کبھی ایک سیٹ کیلئے پارٹی توڑ دی ۔ترجمان نے کہا کہ موصوف انتہائی بدعنوان انسان ہیں جس نے وشبود بائی پاس سے خدابادان اور ایئرپورٹ روڈ سے لے کر گرمکان کراس تک 1500 کے قریب جعلی دکانیں ڈال کر روڈ کٹنگ کے نام پر سرکار سے اربوں روپے کمپلسیشن لیا اس قسم کے بدعنوان انسان کو کوئی حق نہیں کہ نیشنل پارٹی جیسے قومی جماعت پہ انگلی اٹھائے، پچھلے دورِ حکومت میں جو لوٹ مار اور مالی بے ضابطگیاں ہوئیں، ان کے سب سے بڑے ذمہ دار وہی ہیں جو آج دوسروں پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ اس دور ک

