تربت(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی فنانس سیکریٹری اور ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے سابق چیئرمین حاجی فداحسین دشتی نے بارڈر بندش کے بعد پٹرول پمپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارڈر بندش کے باعث پہلے ہی سے مکران ڈویژن سمیت صوبے کے دیگر سرحدی اضلاع کے عوام انتہائی مشکل اور تکلیف دہ حالات سے دوچار تھے۔ اب حکومت نے مکران ڈویژن میں قائم پٹرول پمپوں کو غیرقانونی قرار دے کر بند کرا دیا ہے، جو معاشی قتلِ عام کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت عوام کو مزید معاشی بدحالی اور تنگ دستی کی دلدل میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ اگر حکومت واقعی قانون نافذ کرنا چاہتی ہے تو پہلے یہاں کے لوگوں کے لیے روزگار کے متبادل مواقع پیدا کرے، بے روزگاروں کو ملازمتیں فراہم کرے، میرٹ کو یقینی بنائے، صنعتیں قائم کرے،زراعت ودیگر شعبہ جات کومستحکم بنائے، اس کے بعد بارڈر اور پٹرول پمپوں کی بندش کا فیصلہ کرے۔
حاجی فداحسین دشتی نے کہا کہ معاش کے ذرائع نہایت محدود اور تقریباً ناپید ہو چکے ہیں، جس کے باعث لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 80 فیصد سے زائد آبادی غربت کا شکار اور دو وقت کی روٹی کی محتاج ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے عوام پر مزید معاشی پابندیاں عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے، جو عوام میں نفرت اور بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیچ سے متصل بارڈر کو فوری طور پر کاروبار کے لیے کھولا جائے اور پٹرول پمپوں کی بندش کا فیصلہ واپس لیا جائے بصورت دیگر عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

