نیشنل پارٹی کا کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے التواء پر سخت ردِعمل، حکومت کی ناکامی کو قرار دیا

کوئٹہ(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے التواء پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی بنیادی اکائی اور نچلی سطح پر عوامی نمائندگی کی واضح علامت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ اس اہم جمہوری اکائی کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ کوئٹہ بلدیاتی انتخابات میں نیشنل پارٹی کی عوامی موبلائزیشن، بھرپور رابطہ مہم اور بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث 20 سے زائد امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نیشنل پارٹی کو عوامی اعتماد اور حمایت حاصل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومتی جماعتوں کو کوئٹہ کے عوام نے پہلے ہی مرحلے میں مسترد کر دیا تھا، یہاں تک کہ ان جماعتوں کی ٹکٹ لینے کے لیے بھی کوئی تیار نہ ہوا۔ مجموعی طور پر حکومتی جماعتیں صرف 122 امیدوار نامزد کر سکیں، جو ان کی واضح سیاسی ناکامی کا ثبوت ہے۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے میں مصروف رہیں؛ ایک طرف وہ انتخابات کے انعقاد کی بات کرتی رہیں، جبکہ دوسری جانب انہی کی جانب سے پٹیشن دائر کی گئی جو کہ منفی و گمراہ کن پالیسی ہے۔بیان میں کہا گیا کہا کہ 2018 کے بعد سےکوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے جس کے باعث عوامی مسائل کے انبار لگ چکے ہیں۔ پانی صفائی سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی بدحالی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوا تو عوام نے غیرمعمولی جوش و خروش کے ساتھ اس عمل میں حصہ لیا۔ عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور بھرپور شرکت نے حکومت کو بوکھلاہٹ کا شکار کیا، جس کا نتیجہ انتخابات کے التواء کی صورت میں سامنے آیا۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ نیشنل پارٹی بلدیاتی نظام اور بلدیاتی انتخابات کو جمہوری عمل کی بنیاد سمجھتی ہے اور ان کے بروقت انعقاد اور مؤثر قیام کو سیاسی و جمہوری عمل کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں