ووٹ کا حق ملتا تو بلوچستان کے حالات مختلف ہوتے، نیشنل پارٹی قیادت

کوئٹہ (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے زیراہتمام کیچی بیگ سریاب روڈ کوئٹہ میں گرینڈ شمولیتی جلسہ منعقد ہوا جلسہ سے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر کبیر محمد شہی نے خطاب کرتے ۂوئے کہا کہ بلوچستان بدترین حالات سے دوچار ہے پہلے نوجوانوں کو لاپتہ کیا جاتا رہا اب تو خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں بدامنی و افراتفری عروج پر ہے حکومتی رٹ کہیں نظر ہی نہیں آتی اگر 2024میں بلوچستان کے عوام کو ووٹ کا حق دیکر ان کی میڈیٹ کو تسلیم کیا جاتا تو آج بلوچستان کے یہ حالات نہیں ہوتے ، جلسہ سے نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر چہرمین اسلم بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام روایتی اور بھڑک بازی کی سیاست کو تیزی سے مسترد کرکے سیاسی نظریاتی اور فکری بنیادوں پر صف بندی کررہے ہیں اور موروثی و روایتی جماعتوں سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں سریاب سیاسی کارکنوں کا مضبوط قلعہ ہے جن کی نمائندگی اب نیشنل پارٹی کررہی ہے اراکین اسمبلی رحمت صالح بلوچ ، خیرجان بلوچ ، کلثوم نیاز بلوچ نے کہا کہ سریاب کے عوام کی حق نمائندگی پہ ڈاکہ ڈالا گیا سریاب کی دوصوباہی اسمبلی اور ایک قوم اسمبلی کےنشست فارمُ47 کے ذریعے ایسے لوگوں کو دی گئی جو سریاب کے دو گلیوںُسے بھی واقف نہیں ،چلسہ سے نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی عطامحمد بنگلزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی سریاب کی مضبوط ترین جماعت بن گئی ہے نیشنل پارٹی نے پہلے بھی سریاب کو نظرانداز نہیں کی آئندہ بھی نظرانداز نہیں کرے گا،جلسہ سے چنگیز حئی بلوچ ، یاسمین لہڑی ،داد محمد بلوچ ، بی ایس او کے وائس چہرمیں بابل ملک ،میران بخش بلوچ ، حاجی فاروق شاہوانی ، نصراللہ بلوچ ملک منظور شاہوانی ، حاجی واحد شاہوانی ، انیل غوری ، فاروق شاہوانی صادق بلوچ چہرمین اسلم جتک ، بسمل بلوچ نے بھی خطاب کیا ، واضع رہے کہ ملک فیصل شاہوانی نے دو سو سے زائد دوستوں کے ساتھ نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی پڑھی قائدین نے انہیں پارٹی فلیگ پہنایا ۔پارٹی کے سینیئر رہنما قیوم سجن نے ماما قدیر بلوچ کے لیئے جلسہ عام میں دعائے مغفرت کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں