کوئٹہ /اسلام آباد(این این آئی)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہا ہے کہ پاکستان ثقافت اور تہذیب کے قیمتی ورثے سے مالا مال ملک ہے، جو اسے دنیا کے دیگر ممالک سے ممتاز اور نمایاں مقام عطا کرتا ہے۔ پاکستان میں مختلف روایات، تہذیبیں اور ثقافتی رنگ فروغ پا رہے ہیں، جن کی سرپرستی اور ترویج سے معاشرتی ہم آہنگی، مثبت سوچ اور تخلیقی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔وہ ”ثقافت کا سفر“ کے عنوان سے منعقدہ ثقافتی نمائش کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی ربن کاٹنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ یہ نمائش ڈیجیٹل نیکسس کے زیرِ اہتمام، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) کے تعاون اور کے ٹو چینل کی پارٹنرشپ سے منعقد کی گئی۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے نمائش کے انعقاد پر منتظمین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ”ثقافت کا سفر“ محض ایک نمائش نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت، معاشرتی شعور اور ثقافتی ورثے کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ایسے وقت میں جب معاشرے کو مثبت بیانیے، تخلیقی مواقع اور باوقار پلیٹ فارمز کی شدید ضرورت ہے، اس طرح کے اقدامات ایک روشن مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ اس میلے کے ذریعے ان خواتین کو سراہا گیا جو گھروں میں بیٹھ کر محنت کر رہی ہیں، اپنی صلاحیتوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں مگر اکثر انہیں مناسب مواقع اور پلیٹ فارم میسر نہیں آتے۔ یہ نمائش اس حقیقت کا واضح اعلان ہے کہ خواتین کسی سے کم نہیں، نہ ہنر میں، نہ حوصلے میں اور نہ ہی تخلیقی صلاحیت میں۔سیدال خان نے محترمہ صبوحی حسین اور حسین سبحانی کی کاوشوں کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک چھت تلے درجنوں باصلاحیت خواتین کو اکٹھا کیا، انہیں شناخت دی اور یہ باور کرایا کہ اگر نیت مضبوط ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ میلہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ خواتین کے اعتماد، خود انحصاری اور سماجی شمولیت کی مضبوط بنیاد ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) کے کردار کو بھی قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت اور خوش آئند روایت ہے کہ پہلی بار پی این سی اے اسلام آباد سے باہر کسی اور مقام پر پرفارم کر رہا ہے۔ ماضی میں لوگ ثقافتی سرگرمیوں کے لیے دور دراز علاقوں سے اسلام آباد آیا کرتے تھے، جبکہ آج اسلام آباد کی ثقافت خود لوگوں کے درمیان آئی ہے، جو حقیقی معنوں میں ثقافتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کے ٹو چینل اور دیگر شراکت داروں کی پارٹنرشپ کو بھی سراہا جنہوں نے ثقافت، خواتین اور تخلیقی صلاحیتوں کے اس مثبت پیغام کو وسیع تر حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے امید ظاہر کی کہ ”ثقافت کا سفر“ محض ایک نمائش تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک تحریک کی صورت اختیار کرے گا، جو فنکاروں، ہنرمند خواتین اور نوجوانوں کو مزید مواقع فراہم کرے گا اور پاکستان کی ثقافتی شناخت کو نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھائے گا۔انہوں نے تمام منتظمین، شراکت داروں اور شریک خواتین کو ایک بار پھر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی کاوشوں کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

