عثمان خواجہ نے آسٹریلوی کرکٹ کی کوریج کے دوران ’دقیانوسی نسل پرستانہ تصورات‘ کے کلچر پر تنقید کرتے ہوئے بین الاقوامی میچوں سے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان میں پیدا ہونے والے بلے باز اور آسٹریلیا کے پہلے مسلمان ٹیسٹ کرکٹر نے جمعے کو ایس سی جی میں 45 منٹ سے زیادہ کی گفتگو میں صحافیوں کو بتایا کہ ’اب وہ آزاد ہیں۔‘
انہوں نے اپنے ساتھ عدم مساوات کے سلوک کے خلاف آواز اٹھائی۔
عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ انگلینڈ کے خلاف ایشز کے پانچویں اور آخری میچ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔
انہیں اگر اتوار کو سڈنی میں ہونے والے میچ کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تو 39 سالہ کھلاڑی آخری بار میدان میں اتریں گے۔
یہ بائیں ہاتھ کے بہترین کھلاڑی کے لیے 88 واں ٹیسٹ ہو گا۔ ان کے کیریئر کا آغاز 2011 میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف ہی ہوا تھا۔
جمعے کو میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کی بہت سی شکایات پرانی تھیں۔ لیکن انہوں نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے افتتاحی میچ میں ان کی کمر کی چوٹ کو جس طرح لیا گیا اور رپورٹ کیا گیا کا ذکر کیا۔
ان کے خیال میں ایسا کر کے صرف انہیں غیر منصفانہ سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے رپورٹرز کو کہا ’میں نے ہمیشہ تھوڑا سا مختلف محسوس کیا، حتیٰ کہ اب تک۔ میرے ساتھ مختلف سلوک کیا گیا۔
’جب میں نے کمر موڑی تو مجھے کمر میں کھچاؤ محسوس ہوا۔ یہ وہ چیز تھی جس پر میں قابو نہیں پا سکتا تھا۔ میڈیا اور پرانے کھلاڑی اس وجہ سے مجھ پر حملہ آور ہوئے۔ میں نے اسے تقریباً پانچ دن تک برداشت کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ایک بار جب نسلی دقیانوسی تصورات سامنے آئے، میرے سست ہونے کی وجہ سے۔ یہ وہ چیزیں تھیں جن سے میں نے اپنی پوری زندگی نمٹا ہے۔
’پاکستانی، ویسٹ انڈین، غیر سفید فام کھلاڑی… ہم خود غرض ہیں، ہمیں صرف اپنی پرواہ ہے، ہمیں ٹیم کی پرواہ نہیں، ہم کافی سخت تربیت نہیں کرتے۔
’میں آپ کو ایسے لاتعداد لڑکوں کا نام دے سکتا ہوں جنہوں نے ایک دن پہلے گالف کھیلی اور زخمی ہوئے اور آپ لوگوں نے کچھ نہیں کہا۔
’میں آپ کو ایسے لڑکوں کے نام دے سکتا ہوں جنہوں نے ایک رات پہلے 15 سکونر (بیئر) پیے، ان فٹ ہوئے اور کسی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔‘
عثمان خواجہ بچپن میں اسلام آباد سے آسٹریلیا منقل ہوئے تھے۔
ملک کے پہلے پاکستانی نژاد اور پہلے مسلمان قومی کھلاڑی بننے کے لیے انہیں بہت زیادہ محنت اور کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک موقعے پر وہ آسٹریلیا میں واحد ایشیائی فرسٹ کلاس کھلاڑی تھے اور انہیں ایک رول ماڈل کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب وہ زخمی ہوتے ہیں تو ان کی ساکھ پر چرچا شروع ہو جاتا ہے۔
’میں ایک شخص کے طور پر کون ہوں۔ عام طور پر جب کوئی زخمی ہوتا ہے، تو آپ کو ایک شخص کے طور پر ان کے لیے افسوس ہوتا ہے۔‘
87 میچوں میں 16 سنچریوں کے ساتھ 6000 سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے خواجہ نے کہا کہ ان کے الفاظ بعض لوگوں کو برے لگیں گے، لیکن امید ہے کہ دوسروں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔
’آج ہم جہاں پر ہیں، اسلامو فوبیا اب بھی بہت زیادہ ہے۔ میں اس کے بارے میں بات کرتا ہوں۔ میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اگلے عثمان خواجہ کا سفر مختلف ہو۔
’میں امید کر رہا ہوں کہ ہم ایک لائن پر پہنچ جائیں گے جہاں عثمان خواجہ جان سمتھ جیسا ہی ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں خود کو عوام کا چیمپیئن کہتا ہوں، اس لیے نہیں کہ مجھے لگتا ہے ہر کوئی مجھ سے پیار کرتا ہے، بلکہ اس لیے کہ میں لوگوں کے لیے ایسی چیزوں کے بارے میں بات کرتا ہوں، جن کے بارے میں دوسرے لوگ بات نہیں کرنا چاہتے۔‘

