سخی حمزہ کھوسہ میں متاثرہ خاندان کا پولیس اور مسلح افراد پر سنگین الزامات کا انکشاف

صحبت پور ( رپورٹر ) سندھ کے شہر سخی حمزہ کھوسہ میں ایک دل دہلا دینے والی پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جہاں ایک متاثرہ خاندان نے آنسوؤں کے ساتھ ایسے سنگین الزامات عائد کیے جنہوں نے انسانیت، قانون اور انصاف پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران تحصیل ٹھل، پولیس تھانہ آر ڈی 52 کی حدود میں رہائش پذیر برکت علی کھوسہ نے اہلِ خانہ اور خواتین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ صوفیاء کی دھرتی کہلاتی ہے، مگر افسوس کہ اسی دھرتی پر پولیس خود ڈاکوؤں کا کردار ادا کر رہی ہے۔
برکت علی کھوسہ نے لرزتی آواز میں الزام عائد کیا کہ ٹانوری قبیلے کے مسلح افراد نے ان کے گھر میں گھس کر ایک معصوم بارہ سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق واقعے کے بعد ہونے والے لڑائی جھگڑے میں ان کے خاندان کے متعدد افراد شدید زخمی ہوئے، جبکہ اسی دوران مخالف فریق کا ایک شخص اپنے ہاتھوں مارا گیا۔
متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ اس خونی تصادم میں ان کے چار افراد شدید زخمی ہوئے، مگر پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے الٹا مظلوموں کے خلاف کارروائی کی۔ الزام کے مطابق پولیس نے ان کے گھر کی چاردیواری پامال کر کے مکمل صفایا کر دیا اور چالیس بھیڑ بکریاں، چار بیل، بارہ گائیں، چھ بھینسیں اور ان کے بچھڑے، ڈیڑھ سو من اناج، نقدی اور دیگر قیمتی سامان ساتھ لے گئی۔
پریس کانفرنس میں مزید انکشاف کیا گیا کہ پولیس چار خواتین اور ایک معصوم بارہ سالہ بچی کو بھی اپنے ساتھ لے گئی، جو پہلے ہی ظلم اور زیادتی کا شکار ہو چکی تھی۔ متاثرہ خاندان کے مطابق ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور ان کا گھر مکمل طور پر ماتم کدہ بن چکا ہے۔
متاثرین نے وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی صاف و شفاف انکوائری کرائی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مظلوم خاندان کو انصاف مل سکے اور قانون کی بالادستی قائم

اپنا تبصرہ بھیجیں