گوادر (این این آئی)گوادر میں بڑھتے ہوئے قتل و غارت، بدامنی، ڈکیتی اور چوری چکاری کے واقعات انتہائی تشویشناک اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، تفصیلات کے مطابق گوادر میں بڑھتے ہوئے قتل و غارت، بدامنی، ڈکیتی اور چوری چکاری کے واقعات پر حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی آفس سے جاری بیان میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ضلعی انتظامیہ، محکمہ پولیس اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ عوام جان و مال کے عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ ذمہ دار ادارے جرائم کے سدباب میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔حق دو تحریک بلوچستان نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو روکنے اور پرامن عوام کو دباؤ میں رکھنے میں تو سرگرم نظر آتی ہیں، مگر جن فرائض کی انجام دہی کے لیے انہیں تنخواہیں دی جاتی ہیں، اْن میں وہ مکمل طور پر قاصر ہیں۔ جگہ جگہ ناکے لگا کر عام شہریوں کو تنگ کرنا معمول بن چکا ہے، مگر جرائم پیشہ عناصر کے سامنے یہی ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ گوادر جیسے تاریخی طور پر پرامن شہر کو جرائم کا گڑھ بنانے میں جہاں مجرم عناصر ملوث ہیں، وہیں محکمہ پولیس اور سیکورٹی اداروں کی ناقص حکمتِ عملی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی برابر کا شریک ہے۔ امن و امان قائم کرنے کے بجائے سرکاری وسائل اور افرادی قوت کو غیر ضروری معاملات میں ضائع کیا جا رہا ہے، جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔حق دو تحریک بلوچستان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر گوادر میں جرائم کا خاتمہ نہ کیا گیا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو تحریک عوام کے ساتھ مل کر متعلقہ اداروں کے دفاتر کے سامنے پرامن دھرنا دینے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیکورٹی اداروں پر عائد ہوگی۔

