کراچی (اسٹاف رپورٹر) کنٹری پریذڈنٹ انسانی حقوق اقوام متحدہ برائے پاکستان اور معروف سماجی رہنما عمران رشید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی حب اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر کراچی اس وقت بدترین لاوارثی، حکومتی غفلت اور انتظامی ناکامیوں کی واضح تصویر بن چکا ہے، جہاں شہری بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات سے محروم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ کوئی بھی مؤثر طور پر پرسانِ حال دکھائی نہیں دیتا۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے عمران رشید شیخ نے کہا کہ شہر قائد کے عوام کو ایک جانب سوئی گیس کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش کا سامنا ہے تو دوسری جانب بجلی کی غیر یقینی اور طویل لوڈشیڈنگ نے گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ گیس کی بندش کے باعث شہری مہنگے داموں ایل پی جی گیس خریدنے پر مجبور ہیں جس سے بالخصوص مزدور، دیہاڑی دار اور متوسط طبقہ شدید مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے صنعتوں اور تجارتی مراکز کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں کاروباری لاگت میں اضافہ اور بے روزگاری میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، کراچی جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے وہاں توانائی کے بحران نے نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کی معاشی صورتحال کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
عمران رشید شیخ نے مزید کہا کہ کراچی میں پانی کا بحران برسوں سے سنگین شکل اختیار کر چکا ہے جس کی بنیادی وجہ واٹر ٹینکرز مافیا، ناقص حکمتِ عملی اور حکومتی عدم توجہی ہے تاہم پانی کے مصنوعی بحران کے خاتمے کے لیے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے واٹر ٹینکرز مافیا کے خلاف کیے گئے اقدامات خوش آئند، بروقت اور قابلِ تحسین ہیں جو شہریوں کے لیے امید کی ایک مضبوط کرن ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کراچی کے مسائل کو محض بیانات اور اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے فوری اور عملی اقدامات کریں، عمران رشید شیخ نے تاجر برادری کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر قائد کے سنگین مسائل کا ازخود نوٹس لیں تاجروں کو بھتہ خوری، لینڈ مافیا اور عدم تحفظ کے ماحول سے نجات دلانے اور شہریوں کو گیس، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں موثر کردار ادا کریں تاکہ معیشت کا پہیہ رواں دواں رہے اور پاکستان خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکے۔
عمران رشید شیخ نے زور دے کر کہا کہ اگر کراچی کو مسلسل نظرانداز کرنے کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو اس کے منفی اثرات صرف شہر قائد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے منفی اثرات پورے ملک پر پڑھیں گے جبکہ شہریوں کا معیارِ زندگی مزید زوال پذیر ہوتا چلا جائے گا۔

