کراچی (اسٹاف رپورٹر)مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ مشترکہ اتحاد کے ڈی ایل بی کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے تقریباً 2600 ورکرز ادارے کے خاتمے کے پروگرام کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ کراچی ڈاک لیبر بورڈ ہیڈ آفس پر 29, دسمبر 2025 ء سے جاری علامتی بھوک ہڑتال اور دھرنا جاری ہے۔ جس میں ہزاروں مزدوروں شریک ہیں۔ 16 جنوری کو عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی جو جناح برج (نیٹی جیٹی پل) سے ہوتی ہوئی میری ویدر ٹاور پہنچی۔ جہاں پر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین میں معروف و ممتاز ٹریڈ یونین رہنماء پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی، کراچی ڈویژن کے صدر محمد اسلم سموں، جنرل سیکریٹری حسین بادشاہ نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر خالد خان، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احمد سعید، عبدالرزاق میمن، داؤد مہمند، افسر خان، امین بلوچ، سید مدح حسین شاہ،زاہد بلوچ، غلام نبی لاسی و دیگر شامل تھے۔مقررین نے کہا کہ مزدور حقوق کبھی بھی جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ تمام مزدور اتفاق و اتحاد قائم کرکے اور جدوجہد کے ذریعے ہی اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں۔ کراچی ڈاک لیبر بورڈ کے مزدوروں کے جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ ڈاک ورکرز کے جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اگر جہد مسلسل جاری رہی تو ڈاک ورکرز کو کوئی طاغوتی طاقت اپنے حقوق حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔مقررین نے واضح کیا کہ کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو کسی صورت میں ختم نہیں ہونے دیں گے۔ اور سازشوں کے خلاف آخری حد تک جدوجہد کریں گے۔ تقاریر کے دوران مزدوروں نے فلک شگاف نعرے لگائے مزدور اتحاد زندہ باد ظلم کا دستورنامنظور نامنظورتیز ہو تیز ہوجدوجہد تیز ہو۔

