کوئٹہ (پ ر) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھوک اور غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے جو ریاست کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں ہر چار میں سے ایک گھرانہ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے محمدشہی ہائوس کوئٹہ میں وفودسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ 24 فیصد گھرانے یا تو روزانہ بھوک کا سامنا کر رہے ہیں یا پیٹ بھرنے کے لیے غیر معیاری اور کم غذائیت والی خوراک پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ ان میں سے 5 فیصد ایسے ہیں جو شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اکثر بھوکے رہتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کو بنیادی حق یعنی دو وقت کی روٹی فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا کہ مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حالات بہتری کے بجائے بدتری کی جانب جا رہے ہیں۔ 2018-19 میں غذائی عدم تحفظ کا شکار گھرانوں کی شرح 16 فیصد تھی جو چھ سال میں بڑھ کر 24 فیصد ہو چکی ہے، جبکہ مسلسل بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد 2 فیصد سے بڑھ کر 5 فیصد ہو گئی ہے، یعنی اب ہر بیس میں سے ایک فرد کو بھوک کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری، زرعی زوال اور غیر منصفانہ معاشی نظام نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، خصوصاً بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فوری طور پر غربت اور غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائے، سبسڈی، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مؤثر بنائے، بصورت دیگر حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھوک اور غربت کسی بھی معاشرے کے لیے خاموش ایمرجنسی ہوتی ہے اور اگر اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔

