کوئٹہ (رپورٹر) نیشنل پارٹی بلوچستان کےصوبائی صدر چہرمین اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان پر تاریخ کا بدترین حکومت مسلط کیا گیا ہے جس کا عام لوگوں کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیئے ہر طبقہ فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں گزشتہ نو ماہ سے سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کے لیئے سراپا احتجاج ہیں حکومت نے ان کے رہنماوں کو جیلوں میں ڈالا اذیتیں دیں جو لاحاصل رہا آخرکار کمیٹی بناکر ملازمین کے مطالبات تسلیم کرنے کا عہد کیا اور پھر بدعہدی کرکے ملازمین کو ایک بار پھر سڑکوں پر نکلنے پہ مجبور کردیا اور اب بدترین تشدد کا شکار بناکر ملازمین کو گرفتار کیا جارہا ہےجس کے باعث بلوچستان بھر میں سرکاری مشینری جام ہوکر رہ گئی ہے، اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے ملازمین پر تشدد اور گرفتاریوں کے بجائے ان کے مطالبات کو سنجیدہ لیتے ہوئے ملازمین کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرکے ان کے مطالبات تسلیم کریں۔ اسلم بلوچ نے واضع کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی بلوچستان میں کوئی مینڈیٹ نہیں لیکن جب بھی مقتدرہ عوامی مینڈت چوری کرکے اس بلوچ عوام دشمن جماعت کو بلوچستان پر مسلط کرتا ہے تو بلوچستان میں لوگوں کا زندگی اجیرن بنادیا جاتا ہے سرکاری ملازمین کو چاہیے کہ اس جماعت کے مکروہ چہرہ اور ناپاک عزائم کو جانتے ہوئے اس جماعت سے بھرپور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری مشینری مکمل طورپر جام کریں ۔

