حب (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسلر اسد غنی بلوچ، تحصیل حب کے صدر عابد ملازئی، جنرل سیکریٹری ثناء اللہ مینگل، فنانس سیکریٹری فتح محمد سمالانی، تحصیل کونسل ممبر محسن لانگو، اے این پی کے ضلعی صدر منان افغان اور گرینڈ الائنس کی قیادت میں حب میں آل پارٹیز کانفرنس اور گرینڈ الائنس کے زیرِ اہتمام ایک پُرامن اور جمہوری احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کا مقصد گرینڈ الائنس کے ملازمین کی غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف اور ان کے جائز مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا تھا۔
لیکن افسوسناک طور پر صوبائی حکومت کے احکامات پر پولیس نے اس پُرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے لاٹھی چارج، شدید شیلنگ اور براہِ راست فائرنگ جیسے اوچھے اور جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کیے، جو بدترین ریاستی دہشتگردی اور آمریت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی کارکنان اور ملازمین نے بے مثال جرات اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر قسم کے تشدد کے باوجود اپنا پُرامن احتجاج جاری رکھا اور اپنے آئینی و جمہوری حق کا استعمال کیا۔
پولیس کارروائی کے دوران گرینڈ الائنس کے متعدد ملازمین اور نیشنل پارٹی کے سرگرم رہنما کامریڈ ارباب رند کو بھی گرفتار کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اختلافِ رائے سے خوفزدہ ہوچکی ہے اور طاقت کے بل پر عوامی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔
نیشنل پارٹی اس جبر، تشدد اور غیر قانونی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر تمام گرفتار کارکنان اور ملازمین کو رہا کیا جائے، پولیس تشدد کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور گرینڈ الائنس کے تمام جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر یہ احتجاجی تحریک مزید وسیع اور شدت اختیار کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔
نیشنل پارٹی واضح کرتی ہے کہ ہم اپنے عوام، ملازمین اور کارکنان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور اس جدوجہد کو ہر فورم پر جاری رکھیں گے۔

