رکھنی(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا ہے اور سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں کے نوجوانوں کو ریاست سے دور کیا جارہا ہے نوجوان اس جنگ اور پروپیگنڈہ کا حصہ کسی صورت نہیں بنیں گے بلوچ اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، کوہ سلیمان کے پہاڑ یہاں کے غیرت مند قبائل کی تاریخ اور مسکن ہے کوہ سلیمان ڈویژن کا قیام یہاں کی پسماندگی کے خاتمے اور گڈ گورننس کی جانب اہم قدم ہے یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام اور رکھنی کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا درجہ سے متعلق رکھنی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوہ سلیمان صرف ایک ڈویژن کے قیام کے نام تک محدود نہیں بلکہ یہاں تمام سہولیات بھی فراہم کرینگے اگر ڈویژن بنایا ہے تو اسکی ذمہ داری بھی اٹھائینگے انہوں نے کہا کہ یہاں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنانے کا مقصد اس خطے کی ترقی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ رکھنی جو کہ یونین کونسل ہے آج ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بننے جارہا ہے انہوں نے نئے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال کے قیام، ریزیڈنشل کالج کی تکمیل، نہاڑکور ڈیم کی تکمیل، رکھنی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے، رکھنی ماڈل بازار پر آج سے ہی کام کا آغاز، رکھنی پریس کلب کے قیام اور ہاؤسنگ اسکیم اور رکھنی کو میونسپل کمیٹی ڈیرہ کھیتران کا نام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈویژن کے اضلاع کے لوگ آپس میں بھائی ہے اور جیسا کوہ سلیمان اونچا ہے ایسے ہی یہاں کے لوگوں کے سر اونچے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا ہے اور سوچے سمجھے سازش کے تحت یہاں کے نوجوانوں کو ریاست سے دور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اس جنگ اور پروپیگنڈہ کا حصہ کسی صورت نہیں بنیں گے بلوچ اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں بلوچ قوم نے یہی رہنا ہے اور یہی ہی ہماری بقا اور خوشحالی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سے غلطی ہو سکتی ہے اور آپ گورننس سے ناراض ہو سکتے ہو لیکن ریاست سے کبھی ناراض نہیں ہوا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ میں جو وعدہ کرتا ہوں اسے پورا کرتا ہوں میں نے آج جو وعدہ کیا ہے اسے پایہ تکمیل تک ضرور پہچاونگا۔وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کا اختتام نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان الفاظ میں کیا کہ اے سرزمین کوہ سلیمان کے نوجوانوں یہ وقت خواب دیکھنے کے نہیں بلکہ خواب پورے کرنے کا ہے یہ مٹی تم سے سوال نہیں کرتی یہ تم سے جواب مانگتی ہے کہ کب اٹھو گے کب پہچانو گے کہ تمہاری رگوں میں وہی غیرت کا خون ہے جو تاریخ بناتا رہا ہے غیرت وراثت میں ملتی ہے لیکن ترقی کمائی جاتی ہے اور جو محنت سے بھاگ جائے وہ نام تو بنا سکتا ہے لیکن مقام نہیں یاد رکھو اگر ہاتھوں میں چھالے ہو تو تم درست سمت میں ہو اگر نیند قربان ہو تو جان لو کہ مستقبل تمہارا انتظار کر رہا ہے اے نوجوانوں قوم سیال سیال کے نعروں سے نہیں بنتی قوم کردار سے بنتی ہے یہ وقت ہے کہ تم قلم کو ہتھیار بناؤ علم کو طاقت بناؤ اور محنت کو پہچان بناؤ کوئی تمہیں کمزور کہے کوئی تم پر بلاوجہ تنقید کرے تم مسکرا کر ایسا جواب دو کہ جیسے آج میں جواب دے رہا ہوں میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے کردار اور ارادوں کو اونچا اور مضبوط رکھو۔ جلسے سے راکین صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، حاجی علی مدد جتک، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر باز محمد کھیتران، سابق صوبائی وزیر نصیب اللہ مری، نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالکریم کھیتران، ڈسٹرکٹ چیئرمین ڈیرہ بگٹی وڈیرہ غلام نبی شمبانی، ضلع چیئرمین کوہلو میر نثار احمد مری اور زوکون قبیلے سے تعلق رکھنے والے سمیع خان زرکون نے بھی خطاب کیا اور وزیراعلیٰ کے اس احسن اور عوام دوست اقدام کو بھرپور سراہا انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی یونین کونسل کو ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر کی حیثیت دی گئی ہے اور یقیناً اس کا سہرا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو جاتا ہے۔

