بلوچستان فوڈ اتھارٹی،مختلف اضلاع میں 2 فیکٹریاں سیل، 30 مراکز پر بھاری جرمانے عائد

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کی تیاری و فروخت کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔ کوئٹہ شہر سمیت مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران 2 فیکٹریاں سیل جبکہ 30 مراکز پر بھاری جرمانے عائد کردئیے گئے۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق کوئٹہ کے علاقوں مشرقی بائی پاس، جٹک اسٹاپ اور سرکی روڈ میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کارروائیاں کرتے ہوئے ایک املی تیار کرنے والے یونٹ کو سنگین خلاف ورزیوں پر بند کر دیا۔ یونٹ میں لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس موجود نہیں تھیں، پروسیسنگ لائن غیر معیاری جبکہ خام مال، پیکنگ میٹریل اور خراب ہونے والی اشیاء کو الگ رکھنے کا کوئی نظام نہیں تھا۔ معائنے کے دوران فنگس زدہ پھل، غیر صحت بخش اسٹوریج، ناقص صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور پیسٹ کنٹرول کے فقدان کا بھی انکشاف ہوا۔ مصنوعات کی رجسٹریشن اور لیبل منظوری بھی فراہم نہ کی جا سکی جبکہ ورکرز حفاظتی لباس سے محروم پائے گئے جس پر پروڈکشن رکوادی گئی۔علاوہ ازیں علاقے میں اسنیکس تیار کرنے والے ایک یونٹ کو بھی سیل کیا گیا جہاں فوڈ سیفٹی اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تھا۔ یونٹ میں ناقص صفائی، غیر رجسٹرڈ اسنیکس کی تیاری، لیب رپورٹس اور پروڈکٹ رجسٹریشن کی عدم دستیابی، لیبل کی غیر منظوری، پہلے سے پرنٹ شدہ تاریخِ تیاری و میعاد ختم ہونے کی تاریخیں، اجزاء کی ٹریس ایبلٹی ریکارڈ کی عدم موجودگی، ویسٹ اور پیسٹ کنٹرول کے ناقص انتظامات اور پیکنگ میٹریل و تیار مصنوعات کی غیر مناسب اسٹوریج پائی گئی۔کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، ڈیرہ مراد جمالی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ اور پنجگور میں بھی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے متعدد خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کیے۔نو تعینات ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ“عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ“فوڈ بزنس آپریٹرز فوڈ سیفٹی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈی جی بی ایف اے کا کہنا تھا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی صوبہ بھر میں نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنا رہی ہے اور عوامی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ غیر معیاری خوراک کی تیاری یا فروخت کی اطلاع فوری طور پر اتھارٹی کو دیں تاکہ صحت دشمن عناصر کے خلاف بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں