گرینڈالائنس کے مطالبا ت فوری طور پر تسلیم اور گرفتار ملازمین کو رہا کیا جائے، سید قادر آغا ایڈووکیٹ

کوئٹہ(این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کی ضلعی کمیٹی کا ماہانہ اجلاس سینئر معاون سیکریٹری ندا سنگر کی زیرِ صدارت پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئر سیکریٹری سید قادر آغا ایڈووکیٹ، صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی، ضلع ایگزیکٹو اور ضلعی کمیٹی کے اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع کوئٹہ کی تنظیمی، عوامی اور سیاسی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پارٹی کی گزشتہ کارکردگی پر رپورٹ پیش کی گئی جس پر اراکین نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم تنظیمی اور عوامی فیصلے کیے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پارٹی کو نچلی سطح تک مزید منظم کیا جائے گا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بھرپور اور مؤثر آواز بلند کی جائے گی۔ اجلاس میں صوبے کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا کہ گرینڈ الائنس کے ملازمین کے پرامن احتجاج کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس نے اس طرزِ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سرکاری ملازمین ریاستی ڈھانچے کا ایک اہم ستون ہوتے ہیں۔ وہ صوبے کے انتظامی نظام کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں عدم مساوات، مہنگائی کے تناسب سے مراعات کا فقدان اور سروس اسٹرکچر کے مسائل ایک عرصے سے حل طلب ہیں، مگر حکومت سنجیدہ مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے، جو قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت ہے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ تنخواہوں میں یکسانیت اور مراعات کی منصفانہ تقسیم ملازمین کا بنیادی حق ہے۔ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو برابری، انصاف اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ ایسے میں تعلیم یافتہ اور باشعور ملازمین پر تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ آئینی اصولوں، جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، جبکہ دوسری طرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے سرکاری ملازمین کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مزید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوگا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کو خبردار کیا گیا کہ وہ طاقت کے استعمال کی پالیسی ترک کرے اور فوری طور پر گرینڈ الائنس کے نمائندوں سے بامعنی مذاکرات شروع کرے۔ گرفتار ملازمین کو فی الفور رہا کیا جائے، ان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں اور ان کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے تسلیم کیا جائے۔ اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہمیشہ کی طرح مزدوروں، ملازمین، اساتذہ اور محنت کش طبقات کے آئینی و جمہوری حقوق کی حمایت جاری رکھے گی اور ہر فورم پر ان کی آواز بنے گی۔ پارٹی نے واضح کیا کہ پرامن جدوجہد ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت سے سلب کرنے کی کسی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبے کے موجودہ نازک حالات میں حکومت کو محاذ آرائی کے بجائے افہام و تفہیم، انصاف اور برابری کی پالیسی اپنانی چاہیے تاکہ معاشرے میں استحکام اور اعتماد کی فضا قائم ہو سکے۔اس سلسلے میں تمام ملازمین کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں