نیشنل پارٹی کے رہنماوں کی گرفتاری کی شدید مزمت

تر بت (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے کراچی پریس کلب میں نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کھلی فسطائیت، ریاستی جبر اور آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب آزادیٔ اظہار، جمہوری جدوجہد اور سیاسی شعور کی علامت ہے، جہاں پرامن سیاسی اجلاس پر دھاوا بولنا دراصل جمہوریت کے گلے پر چھری پھیرنے کے مترادف ہے۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ موجودہ حکمران اختلافِ رائے سے خوفزدہ ہو چکے ہیں اور سیاسی آوازوں کو طاقت کے بل پر خاموش کرنا چاہتے ہیں۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ آئینِ پاکستان شہریوں کو اجتماع، تنظیم سازی اور اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے، مگر سندھ حکومت نے ان آئینی حقوق کو پامال کرتے ہوئے آمرانہ طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری نہ قانون کا احترام ہے اور نہ جمہوری روایت، بلکہ یہ طاقت کے نشے میں کیے گئے غیر قانونی اقدامات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی کارکنوں اور قیادت کے خلاف یہ جابرانہ کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو اس کے خلاف عوامی اور سیاسی سطح پر سخت مزاحمت کی جائے گی۔ نیشنل پارٹی کسی بھی صورت جمہوری جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی خوف، دھونس یا گرفتاریوں سے دبائی جا سکتی ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے مطالبہ کیا کہ نیشنل پارٹی کے تمام گرفتار رہنماؤں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف قائم کیے گئے جھوٹے، من گھڑت اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات ختم کیے جائیں، اور اس غیر آئینی اقدام میں ملوث ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت قربانی مانگتی ہے، اور نیشنل پارٹی اس جدوجہد کو ہر قیمت پر جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں