کراچی (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمدشہی نے کراچی میں پاپولر لیفٹ الائنس کی کانفرنس روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے کراچی پریس کلب کے گھیراو اور نیشنل پارٹی رہنماوں سمیت کانفرنس کے شرکاء کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل ملک میں عوامی آواز اور جمہوری عمل پر عائد پابندیوں اور قدغنوں کو واضح کرتا ہے جہاں کانفرنس میں شرکت سے روکنے کے لیے بزرگ، بیمار اور خواتین سیاسی کارکنوں کو بھی غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔ واضح رہے کہ منگل کو پاپولر لیفٹ الائنس کے زیراہتمام منعقدہ “جمہوریت کی بحالی، قوموں کے حقوق اور آمریت کے خلاف جمہوری قوتوں کی کانفرنس” روکنے کے لیے سندھ پولیس کی جانب سےکراچی پریس کلب کا گھیراو کرکے پریس کلب کے سامنے سے نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن کامریڈ رمضان میمن، مرکزی نائب صدر سندھ وحدت شاہینہ رمضان، مرکزی رہنماء ڈاکٹر حسن ناصر، سندھ وحدت کے سیکرٹری فنانس حکیم خان، انور خان، سجاد علی، کمیونسٹ پارٹی کے حسین فاطمی، عوامی حقوق کے محمد فاروق سمیت سیاسی کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ میر کبیر محمدشہی نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے جمہوریت، محکوم قوموں اور مظلوم طبقات کے حقوق کی آوازوں کو طاقت کے زور پر دبانے کی پالیسی آمرانہ روش کی عکاسی کرتی ہے۔ طاقت کے استعمال، دباو اور تشدد سے نہ حقوق کی جمہوری آوازوں کو دبایا جاسکتا اور نہ ہی نظریاتی سیاسی کارکنان کے عزم کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔ جمہوریت کی دعویدار جماعتوں کی جانب سے اقتدار کی خاطر جمہوری اقدار کی پامالی افسوسناک ہے۔ ملک میں پائیدار استحکام کا واحد راستہ حقیقی جمہوریت، آئین کی حکمرانی اور قوموں کے حقوق تسلیم کرنے میں ہے۔ ارباب اختیار ہوش کے ناخن لیں اور ملک میں جمہوری عمل پر عائد قدغنوں کا خاتمہ کیا جائے۔

