تر بت (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے کہا ہے کہ عالمی نظام اس وقت شدید اضطراب اور غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ طاقت کے مراکز میں تبدیلی، بڑی ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش، علاقائی تنازعات، عالمی معیشت کی سست روی اور ماحولیاتی بحران نے دنیا کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں فیصلوں کی نوعیت مستقبل کے خدوخال طے کرے گی۔ اس پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے حالات نہایت حساس اور فیصلہ کن ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر امریکہ اور چین کے درمیان اسٹریٹجک رقابت عالمی سیاست کا محور بن چکی ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری پر واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔ یوکرین جنگ نے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کو توانائی اور غذائی بحران کی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل عدم استحکام عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں عالمی اداروں کی کمزور ہوتی گرفت نے چھوٹے اور کمزور ممالک کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
پاکستان اس عالمی پس منظر میں ایک اہم مگر دباؤ کا شکار ریاست کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اندرونی طور پر سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی، مہنگائی، زرمبادلہ کے مسائل اور بڑھتے ہوئے قرضوں نے قومی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ بیرونی محاذ پر عالمی معاشی سست روی کے باعث برآمدات میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کی قلت اور مالیاتی اداروں پر انحصار جیسے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے شدید سیلاب اور قدرتی آفات نے نہ صرف انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا بلکہ معیشت اور انفراسٹرکچر کو بھی ناقابلِ تلافی ضرب لگائی۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر ماحولیاتی انصاف کے سوال کو مزید نمایاں کرتی ہے، جس میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار متاثرہ فریق کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں پاکستان کو بدلتی ہوئی عالمی صف بندی کے تناظر میں نہایت محتاط اور متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی ایک عالمی طاقت پر حد سے زیادہ انحصار کے بجائے کثیرالجہتی سفارت کاری، علاقائی تعاون اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دینا وقت کا تقاضا ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری، وسطی ایشیا تک رسائی اور علاقائی تجارت پاکستان کے لیے اہم مواقع فراہم کر سکتی ہے، بشرطیکہ داخلی استحکام اور پالیسی تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ محض عالمی حالات کو موردِ الزام ٹھہرا کر قومی مسائل سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ پاکستان کو اندرونی اصلاحات، مؤثر حکمرانی، ادارہ جاتی استحکام اور معاشی نظم و ضبط کی جانب سنجیدہ پیش رفت کرنا ہوگی۔ عالمی دنیا میں وہی ممالک اپنا مقام برقرار رکھ پاتے ہیں جو اندرونی طور پر مضبوط اور خارجہ محاذ پر حقیقت پسند ہوتے ہیں۔
بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پاکستان کے لیے چیلنجز کے ساتھ ساتھ نئے امکانات بھی رکھتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی قیادت وقتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر طویل المدتی وژن اپنائے، تاکہ پاکستان نہ صرف عالمی دباؤ کا مقابلہ کر سکے بلکہ ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر اپنا کردار بھی مؤثر انداز میں ادا کر سکے۔

